ویلز میں نسلی جرائم میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’وکٹم سپورٹ‘ نے پورے ملک میں ایک ایسی ریسرچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نسلی نوعیت کے جرائم کے تدارک کے لئے نئے رہنما اصول مرتب کئے جاسکیں گے۔ یہ ریسرچ ایک ایسے موقع پر شروع کی جارہی ہے جب برطانیہ کے علاقے ویلز میں لندن بم حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے ماہ ویلز کے شہر کارڈف میں ایک مسجد میں جانوروں کے جسم کے حصے اور نسلی مواد سے بھرے خط ایک مسجد میں پھینکے گئے تھے۔ اور بد„ کے روز ایک مسلم خاتون نے ، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے ہفتے ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ ’ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک شخص ہمارے گھر کے سامنے آکر کھرا ہوا ور اس نے گالیاں دینے شروع کردی اور ہمارے گارڈن سے پتھر اٹھا کر مارنا شروع کردئے جس سے ہمارے گھر کی ایک کھڑکی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ ‘ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اپنے گھر میں محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ اب ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ کوئی بھی آکر حملہ کرسکتا ہے۔ شائد لوگوں کا خیال ہو کہ مجھے حجاب نہیں کرنا چاہئیے اور معربی لباس پہننا چاہئیے تاکہ میں بھی لوگوں میں گھل مل جاؤں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتی۔ میں برطانوی شہری ہوں اور پاکستانی بھی ہوں اور مسلمان بھی اور ی میرا کلچر ہے۔‘ پچھلے ماہ کارڈف شہر کے مرکز میں نسلی امتیاز کے خلاف ہونے والے احجاجی مظاہرے میں مسلمان رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ مظاہرہ ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا تھا جن کے مطابق شمالی ویلز میں نسلی نوعیت کے جرائم میں شدید اضافہ رپورٹ کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||