نسلی تعصب اور ’ٹیک اویز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ’ٹیک اویز‘ میں کام کرنے والے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک تہائی ملازمین نسلی تعصب کا سامنا کرتے ہیں۔ برطانیہ میں ڈھابوں کو ٹیک اوے کہتے ہیں۔ ’ٹیک اویز‘ کے مالکوں اور وہاں کام کرنے والے ملازمین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خریداروں کے ہاتھوں زبانی اور جسمانی ایزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے جنوب مشرقی علاقے میں مقیم ایک تہائی دکانوں کے مالکوں سے بات چیت کی اور ان میں سے ایک تہائی کے مطابق انہوں نے نسلی تعصب کا سامنا کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین ہفتے میں تقریباً ایک بار نسلی تعصب کا شکار بنتے ہیں مگر وہ اس کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتے۔ بی بی سی نے مغربی سسیکس کے ایک کباب بیچنے والی دکان کے مالک سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ ان کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی اور انہیں فون پر جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ایشفورڈ میں ایک کباب دکان کے مالک پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ان کا کاندھا بری طرح سے زخمی ہو گیا تھا۔ گلنگھم میں ایک بھارتی ٹیک اوے کے مالک نے بتایا کہ ہر پندرہ دن بعد ان کی دکان کے شیشے توڑ دیے جاتے ہیں۔ جن افراد سے بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بات کی ان میں سے کئی نے ڈر کے مارے کیمرا پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ نامہ نگاروں نے 232 مختلف ٹیک اویز کے ملازمین سے بات کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کینٹ اور سسیکس میں تقریباً چھ سے سات سو تک ٹیک اویز ہیں جن میں اقلیتی طبقے کے لوگ کام کرتے ہیں۔ ان 232 میں سے 85 نے کہا کہ وہ نسلی تعصب کا شکار رہ چکے ہیں۔ چوالیس نے کہا کہ انہیں زبانی بدتمیزی کا شکار بنایا گیا تھا، چار کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جسمانی تشدد کیا گیا تھا، اور 29 کے مطابق انہیں زبانی بدتمیزی اور جسمانی تشدد دونوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اڑتیس ٹیک اویز میں کام کرنے والے افراد نے کہا کہ ان کی دکانوں کونشانہ بنایا گیا تھا۔ تعصب کا شکار ہونے والے 85 ٹیک اویز میں سے 37 کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کی خبر پولیس کو دی تھی اور چھ کے مطابق ان کی شکایت کی وجہ سے ملزموں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ تعصب کے خلاف کام کرنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ اس سروے میں چونکا دینے والی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی صنعت میں نسلی تعصب کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ مانا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ انگریزی زبان روانی سے نہیں بول پاتے اور انہیں لگتا ہے کہ حکام حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ برطانیہ کے کمیشن برائے نسلی مساوات کے دھرمیندر کنانی کا کہنا ہے کہ یہ سروے حقیقی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ پورے ملک کا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||