BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 November, 2005, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس کی صورتِ حال اچانک خراب نہیں ہوئی

ڈاکٹر محمد ابن جوادی، فرانس کی سٹراس بورگ یونیورسٹی میں اسلامیات اور سامی زبانوں کے پروفیسر ہیں۔ نومبر سن انیس سو پچانوے میں ان سے پیرس میں ملاقات ہوئی۔ بات یورپ میں مسلمانوں کے مستقبل پر ہو رہی تھی۔ اس وقت انہوں نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ فرانس میں جہاں برطانیہ سمیت یورپ کے دوسرے تمام ملکوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ایک بڑا آتش فشاں پھٹنے والا ہے۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ ایک طرف مسلم تارکین وطن کی نئی نسل اپنے مذہب اور رنگ و نسل کی بناء پر سنگین اقتصادی، سیاسی اور سماجی تعصب اور نسل پرستی کا شکار ہے اور دوسری طرف فرانس، سیکولر بنیاد پر ایک مختلف فرانسسی اسلام تشکیل دینا چاہتا ہے جو ناممکن ہے۔ یہی بحران بہت جلد ایک آتش فشاں کی صورت میں پھٹے گا۔

اس وقت ڈاکٹر ابن جوادی کی یہ رائے مبالغہ اور سنسنی خیزی کی حدوں کو چھوتی محسوس ہوئی لیکن پچھلے دنوں پیرس کے غریب مضافات میں فسادات کی جو آگ بھڑکی ہے اور جس نے فرانس کے دوسرے ان شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اس کے بعد ڈاکٹر ابن جوادی کی یہ پیش گوئی اگر مکمل طور سے صحیح نہیں تو تو کم از کم ایک حد تک اس طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہے۔

فرانس میں یہ لاوا ایک طویل عرصہ سے پک رہا تھا کیونکہ فرانس کی مسلم آبادی معاشرہ میں نہایت تیزی سے اچھوت بنتی جا رہی تھی خاص طور پر اس بناء پر کہ فرانسیسیوں کی نظر میں بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے امیج پر شدت پسندی کا رنگ غالب آتا جارہا تھا۔ جس کا ایک بین اظہار سکولوں میں حجاب کی ممانعت کے خلاف احتجاج تھا۔

فرانس میں ’مسلمانوں کا مسئلہ‘ اس لحاظ سے بہت سے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے لئے باعث تعجب ہے کہ فرانس میں مسلمان ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ سے آباد ہیں اور اسلام سے رابطہ بھی قدیم ہے۔

اس وقت فرانس کی چھ کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ لیکن یہ محض اندازہ ہے کیونکہ فرانس میں مذہب کی بنیاد پر مردم شماری نہیں ہوتی ہے ۔ بہر حال امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کی دس فی صد ہے۔

گو فرانس میں مسلمان اٹھارہ سو تیس کے عشرہ سے آباد ہیں جب کہ فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تھا لیکن دوسری عالم گیر جنگ کے بعد جب فرانس کو تیز رفتار صنعتی ترقی کے لئے سستی افرادی قوت درکار ہوئی تو شمالی افریقہ میں فرانسسی نوآبادیوں سے بڑے پیمانہ پر مزدوروں کو فرانس آنے کی ترغیب دی گئی۔ پھر سن پچاس کے عشرہ میں الجزائر کی جنگ آزادی کے دوران ان بے شمار الجزائیریوں نے فرانس میں پناہ لی جنہوں نے فرانسسی فوجوں کا ساتھ دیا تھا۔

فرانس کی وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداو شمار کے مطابق اس وقت فرانس میں الجزائیریوں کی تعداد ساڑھے پندرہ لاکھ ہے اس کے بعد نمبر مراکشیوں کا آتا ہے جو دس لاکھ کے قریب ہیں۔ تیونس سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے۔ تحت صحارہ کے ملکوں سے ڈھائی لاکھ افراد ہیں۔ چار لاکھ ترک ہیں اور ایک لاکھ ایشیائی ہیں۔ مشرف بااسلام ہونے والے فرانسسیوں کی تعداد چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔

فرانس میں اس وقت ایک ہزار پانچ سو پینتیس مساجد ہیں اور مدغاسکر کے قریب فرانس کے جزیرہ غیونین میں باقاعدہ مسلم سکول اور مسلم کالج ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کی آبادی کے بڑے گڑھ پیرس، مارسے، لیوں، لییل اور سٹراسبورگ کے صنعتی مضافات ہیں جو عرف عام میں اسلامی مضافات کہلاتے ہیں۔ پیرس کے مضافات’ُسیں ساس دینیس‘ میں مسلمان کل آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔

وزیر داخلہ نکولس سرکوزی کے ایماء پر سن دو ہزار دو میں فرانس کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم فرینچ کونسل آف دی مسلم ریلیجن قائم ہوئی تھی جس کے سربراہ پیرس کی مسجد کے امام دلیل بوبکر ہیں۔ سرکاری طور پر تسلیم کی جانے والی اس تنظیم کے علاوہ مسلمانوں کی دو بڑی تنظیمیں ہیں۔ ایک فیڈریشن آف فرنچ مسلمز جس کی قیادت مراکشیوں کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یونین آف مسلم آرگنائیزیشنز جس پر اخوان المسلمین کا قبضہ ہے۔

فرانس میں گو اکثریت عرب مسلمانوں کی ہے لیکن فرانسیسیوں میں ہر مسلمان کو عرب کہا جاتا ہے البتہ ان کے حلیہ کے مطابق ان کو مخلتف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔مثلا حجاب والی خواتین کو ُ فولارڈ اسلامیک ُ کہا جاتا ہے اور کٹر مسلمانوں کو ُ باربے اسلامیک ُ یا داڑھی والا مسلمان کہا جاتا ہے ویسے مسلم شدت پسندی کو عام طور پرُ اسلامزم ُ کا نام دیا جاتا ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کا مسئلہ جو اب بحران کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے بیشر مبصرین کے نزدیک اس کی وجہ فرانسس کے کثیر النسلی معاشرے کی قبولیت سے یکسر انکار ہے۔ فرانسی قائدین چاہتے ہیں کہ جو بھی فرانس میں آباد ہو وہ مکمل فرانسسی بنے ، اپنے مذہبی ، لسانی اور نسلی تشخص کو ترک کر کے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں فرانس میں نسلی تعلقات کی نوعیت ابتر ہے۔ جب جرمنی کے ترکوں سے موازنہ کیا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ترک ایک ترقی یافتہ شہری معاشرہ سے جرمنی میں بسے ہیں جب کہ فرانس میں اکثریت شمالی افریقہ کے پسماندہ مذہبی دیہاتیوں کی ہے۔

فرانس میں مسلمان اس وجہ سے بھی معاشرہ سے کٹے ہوئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود ملک کے جمہوری اور پالیسی ساز اداروں میں انہیں قطعی کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔ فرانسیسی قومی اسمبلی میں کوئی مسلم نمائندہ نہیں اور نہ فرانس کے سفیروں میں کوئی مسلم نمائندگی ہے اس کے مقابلہ میں برطانیہ میں جہاں مسلمانوں کی تعداد محض بیس لاکھ ہے پارلیمنٹ میں چھ مسلم نمائندے ہیں اور مقامی کونسلوں میں اس سے کہیں زیادہ مسلم نمائندگی ہے۔

بہت سے مبصروں کا خیال ہے کہ فرانسیسی حکومت نے تارکین وطن مسلمانوں کو شہریت دینے میں عمدا بخیلی سے کام لیا ہے۔ فرانسیسی شہریت کے بجائے بیشتر تارکین وطن کو دس دس سال کے لئے رہایشی پرمٹ جاری کئے گئے ہیں جو قابل توسیع ہیں۔

نتیجہ یہ کہ بہت سے تارکین وطن ان رہائشی پرمٹوں کی بنیاد پر چالیس چالیس سال سے فرانس میں رہ رہے ہیں باقاعدہ شہریت حاصل کئے بغیر۔ اس کی وجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تارکین وطن میں غیر ملکی ہونے کا دائمی احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ فرانسیسی معاشرے میں بخوبی ضم نہیں ہو سکے ہیں۔

بہر حال مبصرین کا خیال ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کے مسئلہ کا جو بحران لاوے کی طرح ابلا ہے اس کے بلا شبہہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کے مستقبل پر بڑے دور رس نتایج مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد