BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 November, 2005, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتباہ کے باوجود ہنگامے جاری
فرانس
فسادات پیرس سے نکل ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں
فرانس کے وزیر داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں جاری فسادات کے پیچھے جرائم پیشہ افراد کا ہاتھ ہے۔ تاہم زیادہ تر فسادات کم آمدنی والے ایسے علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں اکثریت تارکین وطن یا تارکین وطن کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔

پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی شب چھ سو سے زائد گاڑیاں نذر آتش کی گئی تھیں۔ جمعہ کی شب پیرس کے علاقوں اور دیگر شہروں جیسے بورڈیو، اسٹراسبرگ، پاؤ، رینے، تولوز اور لیلی میں لگ بھگ نو سو گاڑیوں کو آگ لگادی گئی تھی۔

مبصرین نے کہا کہ حکومت کو صرف تشدد کو قابو کرنے کی کوشش کی بجائے دور رس اقدامات کرنے چاہیں۔

دریں اثنا پیرس کے مضافات اور دیگر فرانسیسی شہروں میں دسویں شب بھی تشدد کے واقعات جاری رہے اور پولیس کی تعیناتی کے باوجود فسادیوں نے اسکولوں اور سینکڑوں گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ سنیچر کی شب دارالحکومت پیرس میں دو سکول اور ایک ریسائکلنگ پلانٹ جلادیے گئے۔

دس دنوں سے جاری رہنے والا یہ تشدد اس وقت شروع ہوا تھا جب دو افریقی اور عرب نوجوان شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس سے بھاگ کر بجلی کے سب سٹیشن میں پناہ لیتے وقت بجلی لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

فرانس میں ہنگاموں کی تاریخ بہت پرانی ہے جو اٹھارویں صدی میں بیسٹیلے پر حملے سے لے کر انیس سو اڑسٹھ میں طالب علموں کے ہنگاموں تک پھیلی ہوئی ہے۔

لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کی طرف سے جاری ہنگامے فرانس کے لیے تشویش کا باعث ہیں جو اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سماجی ڈھانچے پر فخر کرتا ہے۔

پیرس اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کی نواحی بستیوں میں رہنے والے غریب نوجوان جن کو خوف اور ناپنسدیدگی سے دیکھا جاتا ہے اپنے آپ کو ملک کے مرکزی دھارے سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ان کو شکایت ہے کہ پولیس ان کو بے جا نشانہ بناتی ہے۔

ان نوجوانوں کی دنیا کی امتیازی بات بے روزگاری اور جرائم ہیں۔ بہت کم ایسے ہیں جو تعلیم حاصل کر کے یہاں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نکولس سارکوزی پر الزام لگایا گیا ہے کے ممکن ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کی طرف سے سخت موقف نے ہنگاموں کو بڑھاوا دیا ہو۔

نوجوانوں کی سوچ کو خطرہ
فسادات کی وجہ سے جہاں دائیں بازو کی جماعتوں کو تارکین وطن کے خلاف مہم کے لیے مواد مل رہا وہیں پر سخت گیر موقف رکھنے والی اسلامی تنظیموں کے لیے بھی یہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا ایک موقع ہو سکتا ہے

فرانس کے صدر ژاک شراک پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ہنگامے شروع ہونے کے بعد امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے۔

فسادات کی وجہ سے جہاں دائیں بازو کی جماعتوں کو تارکین وطن کے خلاف مہم کے لیے مواد مل رہا وہیں پر سخت گیر موقف رکھنے والی اسلامی تنظیموں کے لیے بھی یہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا ایک موقع ہو سکتا ہے۔

تاحال مشتعل نوجوانوں کی طرف سے کسی نظریاتی یا سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔

نواحی بستیوں کے رہائشی جہاں تارکین وطن رہتے ہیں اب روز روز کی توڑ پھوڑ اور ہنگاموں سے تنگ آ چکے ہیں گوکہ وہ فسادات میں شامل نوجوانوں کی شکایات سے اتفاق کرتے ہیں۔

اس تشدد کی وجوہات تارکین وطن، بالخصوص سیاہ فام افریقی اور شمالی افریقی نسل کے مسلمان نوجوانوں میں بیروزگاری، نسلی تعصب پرستی اور فرانسیس معاشرے میں تارکین وطین کا صحیح مقام نہ ملنا وغیرہ، بتائی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب مزید ستر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ جمعہ کی شب کو بھی نو سو گاڑیاں جلادی گئی تھیں اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ دس دنوں میں لگ بھگ دو ہزار گاڑیاں جلادی گئی ہیں۔

سنیچر کے روز پیرس میں سینکڑوں افراد نے تشدد کے خلاف مارچ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد