فرانس میں ساتویں روز بھی ہنگامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس کے مضافات میں ساتویں رات بھی ہنگامے جاری رہے۔ مظاہرین نے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ دو بسوں سمیت چالیس گاڑیوں کو جلا دیا ۔ پیرس کے مضافات میں سات روز ہنگامے پہلے اس وقت پھوٹ پڑے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ فرانس کے صدر یاک شیراک نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم ڈومینک ویلیپن نے اپنا کینیڈا کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔اسی طرح فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ پیرس کے جن علاقوں میں ہنگامے ہو رہے ہیں وہاں زیادہ تر تارکین وطن باشندے آباد ہیں اور وہاں غربت اور بے روزگاری کی شکایت عام ہیں۔ پولیس اور مظاہرین میں ساتویں رات بھی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق رات پڑتے ہی منہ پر ماسک چڑھا ئے نوجوانوں کے گروہ باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو خلاف کارروائی کے دواران ایک مسجد پر آنسو گیس کے گرنیڈ پھینکے جس کی وجہ سے مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ فرانس یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک ہے۔ فرانس کے وزیر داخلہ کی طرف سے مظاہرین کو ’ذلیلوں کا گروہ‘ کہہ کر پکارنے سے بھی حالات میں زیادہ خرابی پیدا ہوئی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم ڈومینک ویلیپن نے کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اپنے وزیر داخلہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے بیانات دینے سے حالات قابو میں آنے کی بجائے خراب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی تارکین وطن کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں۔بعض مبصرین کے مطابق نکولس سرکوزی فرانس کے صدر بننے کے امکانات روشن ہیں اور صدر ژاک شیراک کی حکمران جماعت کے صدارتی امیداوار ہوں گے۔ | اسی بارے میں فرانس میں سخت امیگریشن قوانین 11 May, 2005 | آس پاس فرانس: الجیریا کا شہری ملک بدر27 August, 2005 | آس پاس سر ڈھانپنے پر فرانسیسی پابندی 11 December, 2003 | آس پاس ’سکھوں کی برہمی دورکریں گے‘13 February, 2004 | آس پاس ’طاقت کی منطق مسائل کاحل نہیں‘19 November, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||