’طاقت کی منطق مسائل کاحل نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے فرانس کے صدر ژاک شیراک نے ایک طاقتور اور اصلاح شدہ اقوام متحدہ پر مبنی منصفانہ اور بہتر عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لندن میں ایک خطاب کے دوران ژاک شیراک نے کہا کہ ’طاقت کی منطق‘ پر مبنی عالمی نظام کی وجہ سے لڑائیاں پیدا ہوں گی۔ ژاک شیراک نے کہا کہ مغرب اپنے اقدار باقی دنیا پر نہیں تھوپ سکتا اور جمہوریت کے عمل کو مغربیت نہیں سمجھا جاسکتا۔ برطانیہ اور فرانس کے درمیان ہونے والے دوستی کے معاہدے ’آنتانت کوردیال‘ کے سو سال پورے ہونے پر فرانسیسی صدر شیراک برطانیہ کے دو روزہ دورے پر جمعرات کو لندن پہنچے۔ شیراک نے اپنے خطاب میں کہا: ’مان لیا کہ یہ اب بھی ممکن ہے کہ دنیا کو طاقت کی منطق پر منظم کیا جاسکتا ہے۔۔۔ لیکن تجربات نے ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح سے منظم کیا ہوا نظام کبھی نہ کبھی۔۔۔ تنازعات اور لڑائی کی جانب چل پڑتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے عمل میں کسی ملک کو اکیلے قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔ ’اس بات کا اعتراف کرکے کہ آپس میں منحصر دنیا کی نئی حقیقت کے کئی زاویے ہیں، ہم ایک منصفانہ اور بہتر عالمی نظام کا قیام کرسکتے ہیں۔‘ فرانسیسی صدر نے اقوام متحدہ کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے اپیل کی اور کہا: ’یہی وجہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی سیاست میں کثیرالفریقی طریقے کو اپنانے کی ضرورت ہے، ایک ایسا کثیرالفریقی راستہ جو ایک طاقتور اور اصلاح شدہ اقوام متحدہ پر مبنی ہو۔‘ ژاک شیراک نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دنیا کی ’نئی حقیقت‘ کی نمائندگی کے لیے مسقتل اور غیرمستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جنگِ عراق کی وجہ سے دنیا محفوظ تر نہیں ہوئی ہے بلکہ ’بلا شبہہ دہشت گردی میں اضافہ‘ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||