’لاٹھی کا نظام نہیں چلے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا ہےکہ دنیا کا نظام انصاف کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے اور اگر طاقت کی بنیاد پر معاملات حل کیے جاتے رہے تو اس سے دنیا میں جھگڑے مزید بڑہیں گے۔ فرانسیی صدر نے جو دو روزہ دورے پر برطانیہ میں ہیں، کہا کہ یہ فیصلہ تاریخ کرئے گی کہ فرانس کا عراق پر حملہ نہ کرنے کا موقف ٹھیک تھا یا برطانیہ کا جس نے امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ فرانس نے عراق پر امریکی سربراہی میں ہونے والے حملے کی شدید مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے امریکہ کو سلامتی کونسل سے عراق پر حملے کی منظوری کی قرار واپس لینی پڑی تھی اور اس نے اقوام متحدہ کی اجازت کی بغیر ہی عراق پر حملہ کر دیا تھا۔ فرانس کے صدر نے اقوام متحدہ میں اصلاحات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا کردار بہتر کرنے کے لیے اس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صدر شیراک نے کہا کہ مغربی دنیا اپنی قدریں دنیا پر ٹونس نہیں سکتا اور اس کو جموریت اور مغربی اقدار میں فرق کو محسوس کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر قائم ہونے نظام پائیدار نہیں ہوتے اور ایسے نظام بڑے جھگڑوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ صدر شیراک نے کہا کہ دنیا میں انصاف کے اصولوں پر مبنی نظام قائم کرنا کسی ایک ملک کے بس میں نہیں ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب اس حقیقت کو مان لیا جائے کہ دنیا کثیر القطبی ہے اور وہ اس کا ایک دوسرے پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ سب کچھ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو مضبوط بنانا ہو گا اور اس کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا دنیا کے نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے مستقل اور غیر مستقل ممبران کی تعداد کی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں دہشت گردی بڑھی ہے لیکن اس میں عراق کی موجودہ صورتحال کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ انہوں نے کہا وہ نہیں جانتے کہ عراق میں صدام حسین کی حکومت کو ختم کرنے سے دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ جگہ بن گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||