’سکھوں کی برہمی دورکریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک کے اسکولوں میں سر پر پگڑی باندھنے اور دیگر مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی کے معاملے پر سکھوں کی برہمی کا کوئی ’حل‘ تلاش کرے گی۔ فرانس کے وزیر خارجہ ڈومینیک ویلیپاں نے یہ بیان بھارت میں اس مسئلے پر اٹھائے جانے والے اعترضات کے جواب میں دیا۔ دہلی میں مذاکرات کے بعد انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم کوئی ایسا حل تلاش کریں گے جو فرانس میں آباد سکھ برادری کے لئے اطمینان بخش ہو گا‘۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مسئلے کا حل نئے قانون کی حد میں رہتے ہوئے تلاش کیا جائے گا۔ بھارت میں فرانسیسی وزیرِ خارجہ اور ان کے ہندوستانی ہم منصب یشونت سنہا کے درمیان ہونے والی گفتگو سے قبل درجنوں سکھوں اور مسلمانوں نے دارالحکومت دہلی میں مظاہرے کئے۔
ڈومینیک ویلیپاں نے کہا کہ فرانس میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی روایت کو مدِنظر رکھتے ہوئےاسکولوں میں مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پابندی کا مقصد کسی مذہبی فرقے کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔ تاہم ڈومینیک ویلیپاں نے یہ واضح نہیں کیا کہ حکومت، فرانس میں آباد چھ ہزار سکھوں کی مختصر آبادی کے لئے نئے قانون میں کیا نرمی کرے گی۔ انہوں نے سکھوں کا ساتھ دینے والے دیگر مذاہب کے افراد کی برہمی دور کرنے کے لئے بھی کسی قسم کے ’حل‘ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ سکھوں کا موقف یہ ہے کہ سر پر پگڑی رکھنا مذہبی علامت نہیں بلکہ سکھ طرزِ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اس لئے انہیں پگڑی نہ پہننے پر مجبور کرنا مذہب سے منحرف کرنے کے مترادف ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||