| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پگڑی نہیں فرانس چھوڑیں‘
فرانس میں سکھوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پگڑی پر پابندی کے سبب وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ صرف پیرس میں تقریباً پانچ ہزار سکھ بستے ہیں۔ فرانس کی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ پورے ملک میں کسی بھی مذہبی علامت کو پہننے کی ممانعت ہے۔ اس قانون کا اطلاق اگرچہ ستمبر کے مہینے سے ہونا ہے لیکن اس پر ابھی سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں فرانس میں مسلمان خواتین کو حجاب نہ اوڑھنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ اس کے خلاف ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج بھی ہوا لیکن اس کے باوجود نتیجہ حکومت کی کامیابی رہا۔ اب سکھوں کا ایک وفد اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے خاص طور پر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل سے مذاکرات کرنے کے لئے فرانس آیا ہے۔ لیکن فرانس کی حکومت اپنے موقف پر ڈٹی دکھائی دیتی ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں چودہ سالہ وکرم سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اگر تعلیم اور مذہب دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو میرا انتخاب میری مذہبی شناخت پگڑی ہوگا ‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||