فرانس: الجیریا کا شہری ملک بدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی حکام نے الجیریا کے ایک باشندے کو دہشتگرد گروہوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں ملک بدر کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔ بیان کے مطابق اڑتیس سالہ خالف حمام کو ایک کشتی کے ذریعے ساحلی شہر مارسیلز سے روانہ کیا گیا۔ حمام کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بوسنیا اور افغانستان میں جہاد کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ جولائی میں لندن بم دھماکوں کے بعد بھی فرانس نے چار مسلمانوں کو ملک بدر کیا تھا۔ اور فرانسیسی حکام آئندہ چند ہفتوں کے دوران مزید دس افراد کو ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فرانس نے متوقع حملوں سے بچنے کے لیے مذہبی تشدد کو فروغ دینے کو قطعی طور پر برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور اس نے اپنے ہمسایہ یورپی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں پر بھی تلاشی کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک فرانس میں متعدد افراد کو جہاد کے لیے بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جولائی میں فرانس کے وزیرِ داخلہ نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ اب تک سات فرانسیسی باشندے ’القاعدہ کے مقاصد کےلیے‘ عراق اور دیگر جگہوں پر لڑتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||