ملکہ کی مہمان کی ملک بدری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک پاکستانی خاتون کو جن کی سیاسی پناہ کی درخواست کے رد کیے جانے کے بعد ان کو وطن واپس بھیجا جارہا ہے ملکہ برطانیہ نے بکہنگم پیلس مدعو کیا ہے۔ فرحت خان جو پاکستان سے بھاگ کر برطانیہ آئی تھیں انہوں نے برطانوی حکام سے کہا تھا کہ وہ گھریلو تشدد سے بچنے کے لیے برطانیہ آئی ہیں۔ مسز خان مانچسٹر میں مشاورت کا کام کرتی ہیں اور ان کے کام کو سرہاتے ہوئے ہی انہیں بکہنگم پیلس میں مدعو کیا ہے۔ مسز خان نے کہا کہ وہ اس دعوت پر خوش بھی اور متذبذب بھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ ایک طرف تو انہیں ملک چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے اور دوسری طرف ان کے کام کو سراہتے ہوئے انہیں بکھنگم پیلس بلایا گیا ہے۔ بکھنگم پیلس سے دعوت نامہ موصول ہونے کے ایک دن پہلے وہ سالفورڈ کے ہوم آفس میں اپنی سیاسی پناہ کی درخواست کے سلسلے میں پیش ہوئی تھیں، جہاں انہیں حکام نے بتایا کہ ان کی درخواست کو رد کیا جا رہا ہے اور انہیں پاکستان واپس جانا پڑے گا۔ مسز خان نے اب ایک نئی درخواست دی ہے۔ مانچسٹر کے ایک مقامی ارکان پارلیمنٹ گراہم سٹرنگر نے مسز خان کو برطانیہ بدر کئے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسز خان جیسی خاتوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ مسز خان نے کہا کہ منگل کی رات کو ملکہ برطانیہ سے ملاقات میں وہ اس معاملے پر بات کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||