پیرس: بیورز کا بیورگر کنگ مسلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس کے رہائشی مسلمان اب امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی برگر کنگ کے ماحول میں حلال برگر کھا سکیں گے کیونکہ پیرس میں ’بی کے ایم‘ یا ’بیورگر کنگ مسلم‘ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس ریستوران کا نام فرانس میں رہائش پذیر شمالی افریقین نژاد آبادی کے نام پر رکھا گیا ہے کیونکہ فرانس میں شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو’بیور‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریستوران شمالی پیرس میں قائم کیا گیا ہے جہاں سابق فرانسیسی نوآبادیات سے تعلق رکھنے والے مسلمان یا ان کی دوسری نسل قیام پذیر ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس علاقے کی نصف سے زیادہ آبادی پچیس سال سے کم عمر کی ہے۔ مقامی افراد کو اسلامی طریقے سے تیار کیے گئے اپنے خصوصی کھانوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ’بی کے ایم‘ نے مقامی معیشت کو بھی سہارا دیا ہے۔
اس ریستوران کے پراجیکٹ مینجر مراد بن حامد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے ریستوران نے اس علاقے میں اٹھائیس نئی نوکریاں بھی متعارف کروائی ہیں جہاں کام کرنے کے قابل ہر چوتھا شخص بے روزگار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اس ریستوران کے زیادہ تر ملازمین کے لیے یہ ریستوران ایک لمبی بے روزگاری کا خاتمہ ثابت ہوا ہے‘۔ مسلم برگر کنگ کے ایک ملازم حکتم نے بتایا کہ ’ اس علاقے کے نوجوان افراد کو کام تلاش کرنے میں مشکل پیش آتی رہی ہے اور اس ریستوران نے ان افراد کو ملازمت دی ہے جن کے پاس کوئی ڈپلومہ بھی نہیں تھا‘۔ اس ریستوران کو باذوق انداز سے سجایا گیا ہے۔ ریستوران میں آنے والی ایک خاتون لیلیٰ بیختی کا کہنا تھا کہ یہ ریستوران لوگوں کے باہمی رویوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ دنیا میں مسلمانوں کا ایک غلط امیج قائم ہو رہا ہے اور یہ جگہ اس امیج کی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے‘۔ پیرس میں جہاں مشرقِ وسطیٰ کی طرز کے بہت سے کباب ریستوران قائم ہیں وہاں اس مسلم برگر کنگ کی خوراک اور سجاوٹ کا مقصد ثقافتی اور نسلی خلا کو پورا کرنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||