اور اب وہیل برگر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی جاپان میں ریسٹورینٹ چلانے والی ایک چھوٹی کمپنی نےصارفین کو ’وہیل برگر، پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کمپنی نے امید ظاہر کی ہے کہ مقامی لوگوں میں جلد ’وہیل، کا گوشت مقبولیت حاصل کرلے گا۔ ’انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن، نے اس سمندری مچھلی نما ’میمل، کے شکار پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور جاپان اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے لیے ’وہیلز، کا شکار دوگنا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ان کے اس موقف کو متعلقہ کمیشن کے بدھ کے اجلاس میں مسترد کردیا گیا تھا۔ جاپان کے جزیرے ’ہوکائیڈو، میں واقع اس ریسٹورینٹ کمنپی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی نئی ’ڈش، کی فروخت بہتر ہورہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ اس نئے برگر کی فروخت اس وقت شروع ہوئی ہے جب ’انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن، کا کوریا میں سالانہ اجلاس ہورہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’وہیل برگر، عام مینیو کا حصہ بننے کے بعد نوجوانوں میں زیادہ پسند کیا جاسکتا ہے۔ جاپان میں تحقیق کے لیے سالانہ سات سو’وہیلز، مارنے کی اجازت ہے اور ان کا ہی گوشت مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے۔ متعلقہ کمیشن نے تحقیق کے نام پر’وہیلز، کے شکار کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور غیر سائنسی قرار دیا ہے۔ ’انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن، نے جاپان کی جانب سے تحقیق کے نام پر شکار دوگنا کرنے کے اعلان پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس سے جاپانی مارکیٹ میں’وہیلز، کے گوشت کی مقدار اتنی بڑھ جائے گی کہ شہری کھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے۔ البتہ ’وہیلز برگر، پیش کرنے والی ریسٹورینٹ کمپنی کی رائے کمیشن کے موقف سے متفق نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||