پیرس: ہزار پولیس اہلکاروں کا گشت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے وزیر اعظم ڈومینک ولپیپن نےکہا ہے کہ پیرس کے مضافات میں ہنگامے کرنے والوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعظم ڈومینک ولپیپن نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ تارکین وطنوں کے رہائشی علاقوں میں ہونے والے ان ہنگاموں کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ فرانس کی حکومت نے ایک ہزار پولیس اہلکاروں کو ان علاقوں میں تعینات کیا جہاں پچھلے ایک ہفتے سے ہنگامی جاری ہیں جن میں سینکڑوں کاروں کو جلایا جا چکا ہے اور سرکاری اور نجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آٹھویں رات بھی ہنگامے ہوئے لیکن پہلے سے کم۔ گزشتہ رات سو سے زیادہ کاروں کو جلا دیا گیا تھا اور پولیس سٹیشن کا گھیراؤ کیا گیا تھا۔ ادھر فرانس کے متنازعہ وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے ان افریقی نوجوانوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو پولیس سے بچنے کے لیے بجلی کی تاروں میں پھنس کر ہلاک ہو گئے تھے۔ فرانس کے وزیر داخلہ کو بعض حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے جنہوں نے مظاہرین کو بے کار کہہ کر پکارا تھا۔ پیرس میں مسلمان رہنماؤں نے سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تارکین وطنوں کی برادریوں کا لحاظ کریں جن کے نوجوان سات روز سے فسادات میں ملوث ہیں۔ پیرس کے مضافات میں سات روز پہلے اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ فرانس کی مسلم کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ تارکین وطن کے لیے ذلت آمیز رہائشی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایک اور مسلم رہنما نے جن کا تعلق اس علاقے سے جہاں ہنگامے ہو رہے ہیں کہا کہ وہاں ایک چوتھائی آبادی بیروزگار نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ فرانس کے صدر یاک شیراک مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کر چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہنگاموں کے دوران رات پڑتے ہی نوجوان منہ پر ماسک چڑھا ئے گھروں سے نکل آتے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دواران ایک مسجد پر آنسو گیس کے گرنیڈ پھینکے جس کی وجہ سے مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ فرانس یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم ڈومینک ویلیپن نے کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اپنے وزیر داخلہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے بیانات دینے سے حالات قابو میں آنے کی بجائے خراب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی تارکین وطن کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں۔بعض مبصرین کے مطابق نکولس سرکوزی فرانس کے صدر بننے کے امکانات روشن ہیں اور صدر ژاک شیراک کی حکمران جماعت کے صدارتی امیداوار ہوں گے۔ | اسی بارے میں فرانس میں سخت امیگریشن قوانین 11 May, 2005 | آس پاس فرانس: الجیریا کا شہری ملک بدر27 August, 2005 | آس پاس سر ڈھانپنے پر فرانسیسی پابندی 11 December, 2003 | آس پاس ’سکھوں کی برہمی دورکریں گے‘13 February, 2004 | آس پاس ’طاقت کی منطق مسائل کاحل نہیں‘19 November, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||