ہلاکت، نسلی تعصب: رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں نسلی تعصب کی بنیاد پر جیل میں ایشیائی نوجوان زاہد مبارک کی ہلاکت کی تحقیقاتی رپورٹ میں انیس افراد پر تنقید کی گئی ہے۔ نوجوان زاہد مبارک کو جیل کی ایک ایسی کوٹھری میں رکھا گیا تھا جس میں ایک ایسا قیدی بھی تھا جس کے بارے میں اہلکاروں کو معلوم تھا کہ وہ نسلی تشدد میں ملوث رہا ہے۔ چھ سال قبل زاہد مبارک کو اس کے ساتھ رہنے والے نسل پرست قیدی نے اس دن ایک کرسی کا پایہ مار کر ہلاک کردیا جس دن وہ جیل سے رہا کیا جانے والا تھا۔ ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس کیتھ نے کہا کہ برطانوی حکومت اس روایت کو ختم کرے جس کے تحت قیدیوں کو ان کی مرضی کے خلاف کسی ناپسند شخص کے ساتھ ایک ہی کوٹھری میں بھردیا جاتا ہے۔ جسٹس کیتھ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ مزید رقم صرف کرے تاکہ برطانوی جیلوں میں بھیجے جانے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے نظم و نسق کے مسائل سے نمٹا جاسکے۔ تحقیقاتی جج نے یہ بھی کہا کہ حکومت ’مذہبی تعصب‘ کی ایک نئی اصطلاح سامنے لائے جس کے ذریعے مسلم قیدیوں کے ساتھ ہونے والے تعصب سے نمٹا جاسکے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جسٹس کیتھ کی تحقیقاتی رپورٹ کے برطانوی نظام انصاف پر دوررس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں زاہد قتل: غیر نسلی پرست دیوانگی04 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||