بیان کے بعد نقاب کی مقبولیت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ماہ پہلے سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرانے کہا تھا کہ نقاب پہننے والی خواتین برطانیہ کی مختلف برادریوں کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک ماہ بعد، برطانیہ کے مسلمان ان کے ان بیانات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ جیک سٹرا کے بیانات ان کے حلقے بلیک برن کے ایک دکاندار نسیم صدیقی کے لیے خوش خبری ثابت ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بیانات کے وجہ سے ان کی دکان پر نقابوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے اس سے پہلے اِتنی تعداد میں نقاب کبھی فروخت نہیں کیے۔ مسٹر صدیقی کی دکان علاقے میں سب سے زیادہ نقاب فروخت کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’پہلے میں ہفتے میں صرف دو یا تین نقاب بیچتا تھا لیکن اب میں ہفتے میں پانچ یا چھ فروخت کرتا ہوں۔ میری زیادہ تر خریدار نوجوان برطانوی مسلمان لڑکیاں ہیں۔ یہ لڑکیاں نقاب پہننے کا تجربہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اُن کی مائیں پردہ نہیں کرتی ہیں لیکن وہ پردہ کرنا چاہتی ہیں۔‘ یقیناً جیک سٹرا اپنے بیان کے اس ردِ عمل کی تو قع نہیں رکھتے۔ انہوں نے ایک مقامی اخبارمیں لکھا تھا کہ جیک شٹرا کو ان مسلمان خواتین سے بات کرتے ہوئے دشواری ہوتی ہے جو میں نقاب پہن کر ان کے دفتر آتی ہیں۔ برطانیہ کی مسلم کمیونٹی نے جیک سٹرا کے بیانات کی مذمت کی تھی اور ایک ماہ بعد وہ ابھی تک مضطرب ہیں۔ مسٹر صدیقی کا کہنا ہے:’میں نے پچھلے انتخابات میں جیک سٹرا کو ووٹ دیا تھا۔ اب میں ان کی حمایت کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہوں۔ اُن کے بیان کے بعد یہاں کے زیادہ تر لوگ بھی یہی کر رہے ہیں۔‘
بلکہ مسلمان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں جان بُوجھ کر خطرے کے نظر سے دیکھا جارہا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ناول نگار نائما بی رابرٹس نقاب کے بارے میں تجربات پر مبنی اپنی کتاب ’میری بہن کے ہونٹوں سے‘ میں کہتی ہیں کہ ’مجھے ڈر ہے کے نقاب کی بحث برطانیہ کوتبدیل کر دے گی اور برطانیہ فرانس کے طرح بن جائے گا جس نے حجاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وہ عورت جو پردہ کرتی ہے معاشرے کی سب سے بے ضرر فرد ہے۔ وہ شراب نہیں پیتی، سگریٹ نہیں پیتی اور معاشرے میں کسی دشواری کا باعث نہیں بنتی۔ ڈیوزبری کی ایک ٹیچر، عائشہ اعظمی، کے معاملے میں برطانیہ کے مسلمانوں کا ردعمل پرتضاد ہے۔ عائشہ اعظمی کو کلاس میں حجاب نہ لینے سے انکار پر معطل کر دیا گیا تھا۔ برطانیہ کے مسلمان اگرچہ جیک سٹرا سے متفق نہیں لیکن وہ عائشہ اعظمی کی بھی بھرپور حمایت بھی نہیں کرتے۔ ناول نگار نائما بی رابرٹس کا کہنا ہے:’اگر میں حجاب پہن کر پڑھا نہیں سکتی تو میں نوکری نہیں کروں گی۔ میں وہاں کام نہیں کروں گی جہان مجھے بے پردہ کام کرنا ہو۔ مثال کے طور پر میں مس گریٹ بریٹن کے مقابلے میں نہیں حصہ لوں گی۔‘ ندیم صدیقی بتاتے ہیں کہ ان کی دکان پر کچھ دن پہلے ایک آٹھ سالہ لڑکی آئی تھی۔ وہ ایک نقاب خریدنا چاہتی تھی۔ وہ مجھ سے پندرہ منٹ تک بحث کرتی رہی۔ میں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ آخر کار ہم نے اُسے حجاب پر راضی کر لیا۔ لڑکی کی والدہ حجاب بھی نہیں پہنتیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ تین دن سے اپنی بیٹی کو سمجھا رہی تھیں کے اُسے نقاب کی ضرورت نہیں ہے۔ جیک سٹرا کے بیانات کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ حوصلہ شکنی ہونے کی بجا ئے نقاب پہننے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں نقاب پہننے والی عورتوں کی تعداد برطانیہ میں کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں برطانیہ میں فسادات کی وارننگ22 October, 2006 | آس پاس ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس حجاب: مسلم خاتون ٹیچر کا دفاع 14 October, 2006 | آس پاس نقاب پوشی، بلیئر اور سٹرا متفق10 October, 2006 | آس پاس ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||