چین کی نئی شہری غربت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی معاشی ترقی کو تیزی سے بڑھانے کے لیے استعمال کیے جانے والے لاکھوں مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں شہروں میں دوسرے درجے کے شہری کی طرح رکھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق مزدوروں کو دیہی علاقوں سے شہروں میں کام کے لیے لایا جاتا ہے لیکن انہیں کئی بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ چین میں پچھلے دو دہائیوں میں تقریباً بیس کروڑ افراد کام کے لیے دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقل ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق ان افراد کے ساتھ ہونے والی ایک بڑی ناانصافی یہ ہے کہ ان کو شہروں میں رہائش کی مکمل اجازت اور حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ ان مزدوروں کو شہر آکر اپنا اندراج کرانا ہوتا ہے لیکن کیونکہ ان میں سے بیشتر انپڑھ ہوتے ہیں ایسا کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے اور اکثر کسی اور کے ذریعے یہ کام کرانے کے لیے ان کے پاس فیس کے پیسے نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی رہائش غیر قانونی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ استحصال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اندارج کرانے والے مزدوروں کو بھی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے اور یوں ایک نیا پسماندہ طبقہ بنتا جا رہا ہے۔
ایمنسٹی کی محقق کورینا باربرا فرانسِس کہتی ہیں کہ ’لاکھوں افراد کو دیہات سے گاؤں لے جایا جا رہا تاکہ کم قیمتوں پر شہروں میں تعمیراتی اور دیگر کام کرائے جا سکیں۔ لیکن ان افراد کو شہر میں رہائش کا حق نہیں دیا جاتا۔‘ ان مزدوروں کے بچوں کو بھی شہر میں رہائش کا حق نہیں دیا جاتا چاہے ان کی پوری زندگی کیوں نہ شہر میں گزری ہو۔ ان بچوں کی رجسٹریشن میں مسئلہ ہو تو انہیں سرکاری سکولوں میں جگہ نہیں ملتی اور ان کے والدین کے پاس انہیں پرایئویٹ سکولوں میں پڑھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ کئی مزدوروں نے بچوں کے لیے مل کر اپنے سکول چلانے کی کوشش کی ہے لیکن ایسے سکولوں کو حکام غیرقانونی کہہ کر حکام بند کرتے رہے ہیں۔ آجر کا بھی ان مزدوروں کے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہوتا۔ عموماً وہ ان کی کئی مہینے کی تنخواہ روکے رکھتے ہیں اور اگر مزدور ملازمت چھوڑنا چاہے تو وہ یہ تنخواہ ضبط کر لیتے ہیں۔ اسی طری چین میں نئے سال کے بڑی جشن کی چھٹی سے پہلے وہ مزدوروں کی تنخواہ ادا کرنے کے بجائے انہیں کہتے ہیں کہ وہ انہیں یہ رقم چھٹی کے بعد ادا کریں گے۔ اس طرح جو مزدور اپنے گاؤں سے واپس نہیں آنا چاہتا اس کو اس مہینے کی تنخواہ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان حالات میں کمپنیوں کو تنخواہیں بڑھانی نہیں پڑتیں اور مزدوروں کا بغیر پوچھ گچھ کے استحصال کیا جا سکتا ہے۔ چین کی حکومت نے شہر آنے والے ان مزدوروں کے حالات بہتر کرنے کے لیے کچھ اقددامات کیے ہیں لیکن ایمنسٹی کے مطابق یہ نا کافی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت کو مزدوروں کےساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے پڑیں گے ورنہ معیشت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ چین کے شہروں میں ایک نئی غربت بھی جنم لے لیگی۔ |
اسی بارے میں چین کےغریب دیہاتی کی ترقی 05 March, 2006 | آس پاس چین میں پانی کی قلت01 June, 2006 | آس پاس چین: ماحولیاتی ناکامی کا اقرار28 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||