BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 January, 2007, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: ماحولیاتی ناکامی کا اقرار
چین اپنی معاشی ترقی کی قیمت ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں ادا کررہا ہے
چینی حکومت نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ چین ماحولیاتی آلودگی کی صورتحال بہتر بنانے یا ماحول کو محفوظ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین دنیا کے ان بدترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ماحولیات سے متعلق ضروری اقدامات نہیں کیے گئے اور سن 2004 سے اب تک صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

امریکہ کے بعد چین وہ دوسرا بڑا ملک ہے جہاں زہریلی یا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اخراج، گندے پانی کی نکاسی اور پینے کے صاف پانی اور دیگر عناصر کی فراہمی یا اخراج کا پیمانہ مقرر کیا گیا تھا۔

یہ رپورٹ حکومتی اور اہلکاروں اور ماہرین ماحولیات نے مرتب کی ہے۔ چین کو 118 ممالک کی فہرست میں سواں (100) نمبر دیا گیا ہے۔

تحقیقات کاروں کی ٹیم کے سربراہ ہیچونکی کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے مقابلے میں ماحولیاتی جدت ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

چین کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا پانچ فیصد ہے جبکہ دنیا کے تیل کی پیداوار کا صرف 4 فیصد یہاں خرچ ہوتا ہے۔ چین کے حالیہ معاشی منصوبوں کے مطابق ملک کو ہر ہفتے ایک نئے توانائی پیدا کرنے کے کارخانے کی ضرورت ہے جن میں سے بیشتر کوئلے سے چلتے ہیں۔

چینی معیشت کی رفتار
 عالمی بینک کے مطابق اگلے پندرہ برس تک چین کی معیشت کی نمو کی رفتار چھ فیصد تک رہے گی جبکہ عالمی معیشت کے بڑھنے کی رفتار اس کے نصف فیصد ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اگلے پندرہ برس تک چین کی معیشت کی نمو کی رفتار چھ فیصد تک رہے گی جبکہ عالمی معیشت کے بڑھنے کی رفتار اس کے نصف فیصد ہے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل گرفتھ کے مطابق یہ نئی رپورٹ چین کے رہنماؤں کے لیے باعث پریشانی ہے جنہوں نے بارہا یہ وعدے کیے ہیں کہ وہ ملک کی آلودہ فضا صاف کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

نامہ مگار کا کہنا ہے کہ چین اپنی معاشی ترقی کی قیمت ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں ادا کررہا ہے۔

سنیچر کو برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ڈیووس میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ کیوٹو معاہدے کی جگہ ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جس کی شقیں مزید سخت ہوں اور اس میں تمام بڑے ممالک شامل ہوں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسا کوئی بھی ماحولیاتی معاہدہ ناکامی سے دوچار ہوگا جس میں انڈیا اور چین کی جانب سے رضامندی شامل نہ ہو۔

اسی بارے میں
چین میں پانی کی قلت
01 June, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد