یورپ : انرجی کی نئی حکمت عملی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور ماحولیات میں تبدیلیوں کے پیش نظر یورپی یونین کے کمیشن نے ایک نئے صنعتی انقلاب کا نعرہ دیا ہے۔ یونین چاہتی ہے کہ تیل اورگيس جیسی قدرتی توانائی پر انحصار کم ہو اور اس کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں یورپ ایک لیڈر کی حیثیت سے رول ادا کرے۔ یونین کے صدر جوز مینول بروزو نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو مشترکہ طور پرماحولیات کی تبدیلی کے لیے جوا بدہ ہونا چاہیے۔ نئے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے نئی پالیسیز کی ضرورت ہے تاکہ یورپ میں توانائی کے حصول کومحفوظ کیا جاسکے۔ یورپی یونین نے یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا ہے جب روس اور بیلا روس کے درمیان گیس پائپ لائن کے تنازعے سے جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ بیلا روس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں روس کے ساتھ اس کا سمجھوتہ ہوگیا ہے اور اب اس میں مزید مشکلیں نہیں آئیں گی۔ لیکن یورپی ممالک توانائی کے متعلق ایک نئی حکمت عملی وضع کرنا چاہتے ہیں جس سے توانائی کے لیے وہ کسی ایک پرمنحصر نہ رہیں۔ یورپی یونین نے توانائی اور ماحولیات کی تبدیلی کے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر توانائی کے حصول، اس کی تقسیم اور اصراف کے متعلق ایک روڈ میپ تیار کیا جاۓ گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے لیے یورپی ممالک کو کسی ایسے ملک پر منحصر نہیں ہونا چاہیے جو یونین کا رکن نہ ہو تاکہ توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہونے پائے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دو ہزار بیس تک کل توانائی کا تقریبا بیس فیصد گیس اور تیل کے علاوہ نئے ذرائع سے آنا چاہئے۔ تخمینے کے مطابق دو ہزار تیس تک یوروپ میں پچاس سے پینسٹھ فیصد تک توانائی کے خرچ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے توانائی کے نئے ذرائع کا سہارا لینا ہوگا۔ یورپی کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دو ہزار بیس تک گرین ہاؤس گیسیز میں تیس فیصد تک کمی کی جانی چاہیے۔ یوروپی یونین کا منصوبہ ہے کہ توانائی کے بازار میں کھلا پن لایاجائے تا کہ یورپ کے شہری کسی بھی یورپی ملک سے بجلی اور گیس خرد سکیں۔ | اسی بارے میں اہم تنصیبات، سخت حفاظتی انتظامات24 July, 2004 | آس پاس فلسطینی علاقوں میں پیٹرول ختم؟11 May, 2006 | آس پاس گھاس سے بجلی پیدا کرنے کی تیاری07 September, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||