BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 September, 2005, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گھاس سے بجلی پیدا کرنے کی تیاری
گھانس
چار میٹر تک بڑھنے والی ’مکنتھس‘ نامی اس گھانس کے کامیاب تجربے کیے گئے ہیں
مستقبل میں شاید یورپ کے کھیتوں کو ایسے گھاسوں کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ بغیر ماحول کو نقصان پہنچائے ایندھن کے طور پر جلائی جا سکتی ہیں۔

آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس میں ماہرین نے بتایا ہے کہ ایسے منصوبے نہ صرف معاشی طور پر فائدے مند ثابت ہونگے بلکہ عالمی حدت کے منفی اثرات پربھی کچھ حد تک قابو پا سکیں گے۔

یہ بات ماہرین نے تنظیم برٹش ایسوسی ایشن کے ’فیسٹیول آف سائنس‘ کی تقریب میں بتائی۔

نئی تحقیق کے مطابق ’ایلیفنٹ گراس‘ نامی اس اونچی گھانس کو ایندھن کے لیے بجلی گھروں میں جلا نا بجلی پیدا کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔

موسمیات اور پودوں کے ایک ماہر پروفیسر مائک جونز نے بتایا ہے کہ چار میٹر تک بڑھنے والی جنگلی گھاس ’مسکینتھس‘ کو اگانے میں نہ صرف کوئی محنت درکار نہیں بلکہ اس کے لیے بہت کم فرٹیلائزر کھاد درکار ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’دس سال کے اندر ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کر دینا چاہیے ۔‘ اس کے فوائد کے بارے میں انہوں نے مزید کہا ’اگر ہم یورپی یونین کے ممالک کے کُل مناسب زمین کے دس فیصد حصے پر بھی ایسی گھاس اگائیں تو اس سے ہماری بجلی کی کل پیداوار کا نو فیصد حصہ پورا ہو سکتا ہے۔‘

بائیو میس فصلیں
پودوں کو جلا کر بجلی پیدا کرنا ماحول کے لیے یوں بہتر ہے کہ اس سے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ پودا بڑے ہوتے ہوئے ماحول میں سے کاربن ڈائی آکسائڈ کھینچتا ہے اور جب اسے جلایا جاتا ہے تو یہی کاربن ڈ ّائی آکسائڈ واپس فضا میں جاتا ہے، جس سے توازن برابر رہتا ہے۔

امریکی یونیو سٹی ’یونیورسٹی آف الی نوئز ‘ کے پروفیسر سٹیو لانگ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فصلیں جتنا کاربن ڈائی آوکسائڈ کھینچتی ہیں وہ اس سے زیادہ ماحول میں نہیں چھوڑتیں اور یوں ایک توازن قائم رہتا ہے۔

لیکن اس کے بر عکس اگر کوئلے کو زمین سے نکال کر جلایا جاتا ہے تو اس کے جلانے سے ماحول میں کاربن ڈائی آوکسائڈ کی نئی تعداد پیدا ہوتی ہے۔ یوں ماحولیاتی طور پر فضا میں ’سی او ٹو‘ کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

پروفیسر لانگ نے مسکینتھس کی دو قسمیں اگانے کا تجربہ کیا ہے۔ وہ تقریباً بیس کنال زمین پر ساٹھ ٹن گھاس اگا سکے ہیں۔ اور یورپ میں جو تجربے کیے گئے ہیں ان میں تقریباً بارہ ٹن مسکینتھس کاشت کیا جا سکا ہے ۔

مستقبل میں بائو میس فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے کیونکہ اب دیگر ممالک بھی ایسی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
پروفیسر مائک جونز کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت بھی ایسےایک بڑے منصوبے کو چلانے کے لیے رقم فراہم کی ہے۔

پروفیسر لانگ کہتے ہیں ایسے منصوبوں میں بہت کم رقم اور ٹیکنولوجی لگانی ہوتی ہے اور یہ عالمی حدت کے بڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہیں۔

66زیتون کا کرشمہ
زیتون کے استعمال سے درد غائب
66دماغ میں بھنگ
دماغ میں بھنگ کیطرح کا مادہ پیدا ہوتا ہے
66حسن خطرے میں
جنوبی ایشیا میں دنیا کے رنگ برنگے ترین پرندے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد