گھاس سے بجلی پیدا کرنے کی تیاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مستقبل میں شاید یورپ کے کھیتوں کو ایسے گھاسوں کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ بغیر ماحول کو نقصان پہنچائے ایندھن کے طور پر جلائی جا سکتی ہیں۔ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس میں ماہرین نے بتایا ہے کہ ایسے منصوبے نہ صرف معاشی طور پر فائدے مند ثابت ہونگے بلکہ عالمی حدت کے منفی اثرات پربھی کچھ حد تک قابو پا سکیں گے۔ یہ بات ماہرین نے تنظیم برٹش ایسوسی ایشن کے ’فیسٹیول آف سائنس‘ کی تقریب میں بتائی۔ نئی تحقیق کے مطابق ’ایلیفنٹ گراس‘ نامی اس اونچی گھانس کو ایندھن کے لیے بجلی گھروں میں جلا نا بجلی پیدا کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ موسمیات اور پودوں کے ایک ماہر پروفیسر مائک جونز نے بتایا ہے کہ چار میٹر تک بڑھنے والی جنگلی گھاس ’مسکینتھس‘ کو اگانے میں نہ صرف کوئی محنت درکار نہیں بلکہ اس کے لیے بہت کم فرٹیلائزر کھاد درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’دس سال کے اندر ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کر دینا چاہیے ۔‘ اس کے فوائد کے بارے میں انہوں نے مزید کہا ’اگر ہم یورپی یونین کے ممالک کے کُل مناسب زمین کے دس فیصد حصے پر بھی ایسی گھاس اگائیں تو اس سے ہماری بجلی کی کل پیداوار کا نو فیصد حصہ پورا ہو سکتا ہے۔‘ بائیو میس فصلیں امریکی یونیو سٹی ’یونیورسٹی آف الی نوئز ‘ کے پروفیسر سٹیو لانگ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فصلیں جتنا کاربن ڈائی آوکسائڈ کھینچتی ہیں وہ اس سے زیادہ ماحول میں نہیں چھوڑتیں اور یوں ایک توازن قائم رہتا ہے۔ لیکن اس کے بر عکس اگر کوئلے کو زمین سے نکال کر جلایا جاتا ہے تو اس کے جلانے سے ماحول میں کاربن ڈائی آوکسائڈ کی نئی تعداد پیدا ہوتی ہے۔ یوں ماحولیاتی طور پر فضا میں ’سی او ٹو‘ کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ پروفیسر لانگ نے مسکینتھس کی دو قسمیں اگانے کا تجربہ کیا ہے۔ وہ تقریباً بیس کنال زمین پر ساٹھ ٹن گھاس اگا سکے ہیں۔ اور یورپ میں جو تجربے کیے گئے ہیں ان میں تقریباً بارہ ٹن مسکینتھس کاشت کیا جا سکا ہے ۔ مستقبل میں بائو میس فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے کیونکہ اب دیگر ممالک بھی ایسی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ پروفیسر لانگ کہتے ہیں ایسے منصوبوں میں بہت کم رقم اور ٹیکنولوجی لگانی ہوتی ہے اور یہ عالمی حدت کے بڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||