BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرندے آلودگی کے ذمہ دار
News image
پرندے، افزائش نسل کے دنوں میں شمالی بحرالکاہل سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں
ایک نئی تحقیق کے مطابق سمندری پرندے ماحول کو آلودہ کرنے والے صنعتی اور زرعی مادے آرکٹک یا بحر منجمد شمالی تک لے جاتے ہیں۔

کینیڈا کے سائنسدانوں کے مطابق پرندے ڈی ڈی ٹی اور مرکری جیسی چیزیں ایسی جگہوں پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں سے دوسرے جانور اپنا کھانا کھاتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق بحر منجمد شمالی میں رہنے والے لوگوں کے جسم میں صنعتی مادوں کی زیادہ مقدار پائے جانے کی یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کی تنظیموں نے اس تحقیق کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا میں کہیں بھی ایسے مادوں کے استعمال کی مخالفت کی ہے جو دنیا کے دور دراز خوبصورت علاقوں تک پہنچ کر انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایک اور حالیہ تحقیق کے مطابق ایک خاص قسم کے صنعتی مادے پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز یا پی سی بی کی مقدار کیوبک میں رہنے والے کینیڈین باشندوں کے مقابلے میں آرکٹک کے شمال میں رہنے والوں میں تیس فیصد زیادہ ہے۔

پی سی بی کا شمار ان صنعتی مادوں میں ہوتا ہے جو ماحول میں شامل ہو کر جلد گھلتے نہیں اور جانداروں کے جسم کے اندر جمع ہو سکتے ہیں۔

اب تک سائنسدان یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس قسم کے کیمیکلز دور دراز علاقوں تک پہنچتے کیسے ہیں۔ اس بارے میں ان کے کئی مفروضے تھے جن میں سے ایک پرندوں کے بارے میں بھی تھا۔

اب اوٹووا یونیورسٹی کے ایک گروپ نے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی ایک نسل فلمر پر تحقیق کر کے اس مفروضے کو تقویت پہنچائی ہے۔

یہ پرندے، افزائش نسل کے دنوں میں شمالی بحرالکاہل سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ جو مچھلیاں وہ کھاتے ہوں ان میں بھی ڈی ڈی ٹی جیسے کیمیکلز جمع ہوتے ہوں۔

یہ نقصان دہ مادے ان پرندوں کے ذریعے دوسرے جانداروں میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اس علاقے کے کچھ لوگ ان پرندوں کے انڈے کھاتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے جسموں میں بھی ان کیمیکلز کی مقدار بڑھ جاتی ہو۔ اس بارے میں ابھی سائنسدان مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد