مینڈک کو خطرہ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانئسدانوں کے ایک بین الاقوامی پینل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بے شمار ایمفیبینز یعنی وہ جانور جو پانی اور خشکی دونوں پر رہتے ہیں جیسا کہ مینڈک وغیرہ، ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ جریدے سائنس کے ایک مضمون کے مطابق ان جانوروں کی چھ ہزار کے قریب قسمیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 1980 سے لے کر اب تک 122 کے قریب ایمفیبینز کی قسمیں شاید ختم بھی ہو چکی ہیں اور جو باقی ہیں انہیں بہت خطرہ ہے۔ یہ نتائج ایمفیبینز کے سب سے بڑے سروے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بیماری، ماحول اور جگہ کی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، اور غذا کے لیے ان جانوروں کا شکار ایمفیبینز کی نسل میں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ بی بی سی کے ماحولیات کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس قسم کے جانور ماحولیاتی تبدیلی کو سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں اور ان سے یہ پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں دیگر حیات کو کیا مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||