BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 September, 2005, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیتون کے استعمال سے درد غائب
زیتون
زیتون کا تیل بحیرہ روم کے علاقے کی خوراک کا لازمی جزو ہے
امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ زیتون کے تیل میں موجود ایک کیمیائی مادہ درد کی شدت کم کرنے والی دواؤں جیسا اثر رکھتا ہے۔

تحقیق دانوں کے مطابق پچاس گرام زیتون کا تیل بروفن کی ایک خوراک کے دسویں حصے کے برابر اثر پذیر ہے۔

فلاڈلفیا کے ایک تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ زیتون کے تیل کا ایک جزو سوجن ختم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس جزو کے اثر سے سر درد جیسے امراض پر مکمل طور پر قابو تو نہیں پایا جا سکتا تاہم اس سے بحیرہ روم کے علاقے کی خوراک کی افادیت ضرور ظاہر ہوتی ہے۔

زیتون کا تیل بحیرہ روم کے علاقے کی خوراک کا لازمی جزو ہے اور اسے صحت کے لیے مفید تصور کیا جاتا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیتون کے استعمال سے جسم میں دل کی بیماریوں، چھاتی کے سرطان اور پھیپڑوں کے کینسر جیسی موذی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہوتی ہے۔

زیتون کی اس خاصیت کے بارے میں تحقیق کاروں نے اس وقت غور کیا جب ٹیم کے ایک رکن نے محسوس کیا کہ تازہ زیتون کھانے سے گلے میں ویسی ہی خراش ہوتی ہے جیسا کہ بروفن کھانے سے۔

برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والی سائنسدان کلیئر ولیمسن کا کہنا تھا کہ’ زیتون میں متعدد بائیوایکٹو مرکبات پائے جاتے ہیں تاہم ہم ابھی مکمل طور پر یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کام کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں یقین ہے زیتون انٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ وہ ایک دوا کا نعم البدل ہے۔ اس معاملے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد