BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 January, 2007, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پروگرام پر مفاہمت کا امکان
شمالی کوریا کا بیان غیر معمولی طور پر مثبت ہے
شمالی کوریا اور امریکہ کے مذاکرات کاروں میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں جرمنی کے شہر برلن میں جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کے شہر برلن میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکی اور شمالی کوریا کے مذاکرات کاروں کے درمیان سہ روزہ مذاکرات جمعرات کو جرمنی کے شہر برلن میں ختم ہوئے تھے۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس سکینلون کے مطابق شمالی کوریا کی وزراتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والا بیان غیر معمولی مثبت رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے رویے میں مثبت تبدیلی امریکہ کی طرف سے لچکدار رویے اپنانے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ برلن میں ہونے والے مذاکرات بڑے خوشگوار اور سنجیدہ ماحول میں ہوئے ہیں۔

شمالی کوریا کی طرف سے یہ بیان امریکی مذاکرات کار کرسٹوفر ہل کے شمالی کوریا کے دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔ کرسٹوفر ہل چھ ملکی مذاکرات کے نئے دور سے کی تیاری کے سلسلے میں شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات گزشتہ سال دسمبر میں ایک برس کے تعطل کے بعد شروع ہوئے تھے۔

امریکہ ایک طویل عرصے سے شمالی کوریا کے ساتھ براہراست بات چیت کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ امریکہ حکومت شمالی کوریا کے حکام سے ایک میز پر ملاقات کرنے پر رضامند ہوا۔

گو شمالی کوریا برلن میں ہونے والی ملاقات کو براہراست مذاکرات قرار دے رہا ہے جبکہ امریکی حکومت بات چیت کے اس عمل کو دوسری طرح سے دیکھتی ہے۔

واہٹ ہاوس کے ترجمان ٹونی سنو نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس بات چیت کو براہراست مذاکرات قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ برلن میں کرسٹوفر ہل اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت چھ ملکی مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے کی کڑی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس بات کے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ شاید امریکہ شمالی کوریا کے خلاف دوہزار پانچ میں لگائی جانے والی مالی پابندیوں میں بھی نرمی کرنے پر تیار ہو جائے۔

ان پابندیوں کے عائد کیئے جانے کے بعد شمالی کوریا نے چھ ملکی مذاکرات میں شرکت کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
جوہری دھماکوں کی تصدیق
14 October, 2006 | آس پاس
مذاکرات دوبارہ شروع
18 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد