’مزید عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپانی وزیراعظم نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کے بےنتیجہ رہنے کے بعد اسے مزید عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شنزو ایبی نے ایک مرتبہ پھر اقوامِ متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کی۔ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر ہونے والے چھ ملکی مذاکرات کے ایک بار پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران چین، روس، امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ شمالی کوریا کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ختم کردے۔ تاہم پانچ روز تک جاری رہنے کے بعد مذاکرات بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوگئے۔
ادھر مذاکرات میں شریک شمالی کوریا کے نمائندے نے کہا ہے کہ وہ اپنی جوہری طاقت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کم کیوان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ بات چیت اور دباؤ دونوں قسم کے حربے استعمال کر رہا ہے اور ہم اس کے جواب میں مذاکرات اور حفاظت کے اصول پر کارفرما ہیں۔ اور حفاظت سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی جوہری طاقت مزید بہتر کریں گے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر امریکہ اقتصادی پابندیاں ختم کر دے تو اس سے آئندہ مذاکرات کے لیے بہتر ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ دو ماہ پہلے شمالی کوریا کی طرف سے جوہری دھماکہ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ابھی تک معاشی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے سے انکاری ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ امریکہ اور جنوبی کوریا پیانگ یانگ حکومت کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔اس بات کا اشارہ امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار کرسٹوفر ہل نے دوسرے دن مذاکرات شروع ہونے سے قبل دیا تھا۔ شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک جوہری پروگرام کی بندش کی تجویز پر غور نہیں کرے گا جب تک کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا نہیں لی جاتیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے نو اکتوبر کو شمالی کوریا کی جانب سے جوہری آلات کے تجربات کرنے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ واشنگٹن کی جانب سے بھی گزشتہ سال شمالی کوریا پر مبینہ منی لانڈرنگ اور امریکی ڈالر کی جعل سازی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔ | اسی بارے میں پابندیوں پر پہلی بار بات چیت 19 December, 2006 | آس پاس مذاکرات دوبارہ شروع18 December, 2006 | آس پاس ’شمالی کوریا پر حاوی نہ ہوں‘25 October, 2006 | آس پاس پابندیاں ’جنگ کا اعلان ہیں‘17 October, 2006 | آس پاس دوسرا تجربہ:’شمالی کوریا باز رہے‘18 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||