BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 11:42 GMT 16:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شمالی کوریا پر حاوی نہ ہوں‘
روس کے صدر ولادیمئر پوتن
صدر پوتن نے یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ پر ’لائو فون اِن‘ پر کہی
روس کے صدر ولادیمئر پوتن نے کہا ہے کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام میں کمی کرے تو پھر دنیا کو اس پر ایسا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کو وہ کسی انتہا پسند حرکت پر مجبور ہو جائے۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا سے بات چیت میں کچھ مذاکرات کار مناسب لہجے میں بات نہیں کر پائے ہیں۔

صدر پوتن نے یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ پر براہ راست نشر ہونے والے ایک ’فون اِن‘ کے دوران کی۔ اس پروگرام میں لوگ ٹیلی فون کے ذریعے ان سے سوالات کر رہے تھے۔

صدر پوتن نے کہا کہ شمالی کوریا کے مسئلے کا حل دھمکیوں کے بجائے عاقبت اندیشی اور مثبت توقعات سے ہو سکتا ہے۔

روسی صدر کے بقول ’ایسی صورتحال میں ایک فریق کو ایسی پوزیشن میں نہیں دھکیلنا چاہیے کہ مفاہمت کے تمام راستے بند ہو جائیں۔‘

شمالی کوریا نے نو اکتوبر کو کامیاب جوہری تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا کے معاملے کے علاوہ صدر پیوتن سے ان کے سیاسی ارادوں پر بھی سوال کیا گیا۔

جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی مدت صدارت سنہ 2008 میں ختم ہو جائے گی اور وہ اس عہدے کے لیے پھر امیدوار بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم انہوں نے کہا وہ کسی اور طرح سے سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگوں کا آپ پر اعتماد قائم رہے تو آپ قومی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘

پڑوسی ملک جارجیا میں ابخازیہ اور جنوبی اوسیشیا کی خود ارادیت اور آزادی کی مہم کے بارے میں جب صدر پوتن سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اس معاملے میں اگر جارجیہ نے طاقت اور تشدد کا استعمال کیا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روس چاہتا ہے کہ جارجیا کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہو جائیں کیونکہ جارجیہ نے روسی مملکت کو بہت کچھ دیا ہے اور ’ہم جارجیہ کے عوام کی عزت کرتے ہیں۔‘

اس ’فون اِن‘ پروگرام میں نو مخصوص شہروں سے لوگوں کے سوالات لیے گئے۔ دس لاکھ سے زیادہ سوالات منتظمین کی ویبسائٹ تک پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد