پابندیاں ’جنگ کا اعلان ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے عائد پابندیاں ’جنگ کا اعلان ہیں۔‘ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے ’کے سی این اے‘ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ملک کے ساتھ عالمی برادری کا یہ رویہ اس کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ ایک اور جوہری تجربے کی تیاریاں؟ امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کے اس علاقے سے ٹرکوں اور بڑی گاڑیوں کے آنے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ فرانس اور چین نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اب وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے اس کی جانب سے کیئے جانے والے ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ہو۔ فرانسیسی اور چینی قیادت کے درمیان اگلے ہفتے بیجنگ میں ملاقات ہونے والی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اگر کوئی مزید ’جارحانہ‘ اقدام اٹھایا تو وہ اسے تیل اور غلے کی فراہمی بند کر دے گا۔ جبکہ فرانس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے دوسرے ایٹمی دھماکے کا مطلب انتہائی غیر ذمہ داری ہوگا، جس کے نتیجے میں اس پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ادھر جنوبی کوریا کے ایک اہلکار کے مطابق ایک اور ایٹمی تجربے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ یہ جلد ہوگا یا نہیں۔ سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہاں یہ رائے عام ہے کہ شمالی کوریا نے ماضی میں اپنے جوہری مقامات پر سرگرمی میں اضافہ ہمیشہ اس وقت کیا ہے جب وہ سفارتی سطح پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی کوریا کا پچھلے ہفتے کے دھماکے کی شدت پیونگ یینگ کے توقعات سے کم ہوا ہو ارو اب وہ مزید تجربات کرنا چاہے۔ امریکہ کی انتباہ یہ بات امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس منگل کو جاپان، جنوبی کوریا، چین اور روس کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے کہی۔ وزیر خارجہ منگل کے روز اس دورہ پر روانہ ہو رہی ہیں۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ14 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا، مزید دھمکی11 October, 2006 | آس پاس ’شمالی کوریا کو کیسے سزا دیں‘09 October, 2006 | آس پاس ’مزید دباؤ اعلان جنگ کے برابرہوگا‘15 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||