شمالی کوریا، مزید دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی جانب ’جارحانہ‘ پالیسی جاری رکھی تو وہ مزید جوہری تجربات کرسکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے صدر اور ملک کے دوسرے سب سے بڑے رہنما کم یونگ نیم نے کہا ہے کہ مزید تجربات کے فیصلے کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ امریکہ شمالی کوریا سے کیسا سلوک روا رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر امریکہ نے مختلف طریقوں سے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس اس کے عملی رد عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا‘۔ پیر کے جوہری تجربات کے بعد ملک کے کسی با اثر رہنما کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ پیر کے ایٹمی تجربات کے بعد اسے ایسی پابندیوں کا سامنا ہوگا جو اس سے پہلے اس پر کبھی عائد نہیں کی گئیں کیونکہ شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کرکے ’ایک حد‘ پار کرلی ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارتکار بدھ کو دوبارہ ملاقات کررہے ہیں جس میں شمالی کوریا کے خلاف کیئے جانے والے اقدامات پر کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے دور روز بعد بھی اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ارکان میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ فی الوقت سلامتی کونسل امریکی تجویز پر غور کررہی ہے جس کے تحت پیونگ یینگ پر سخت پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ تاہم روس اور چین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں جس میں فوج کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سے قبل جنوبی کوریا اور امریکہ کے حکام نے شمالی کوریا کی جانب سے دوسرے جوہری ٹیسٹ کی خبروں کی تردید کی ہے۔
ایک جاپانی ٹی وی چینل کے مطابق ٹوکیو میں حکام زمینی جھٹکے محسوس کرنے کے بعد دوسرے جوہری تجربے کے امکانات پر تحقیق کررہے ہیں۔ تاہم امریکی اور جنوبی کوریا کے ماہرین نے کہا ہے کہ انہوں نے علاقے میں ایسی کوئی سرگرمی ریکارڈ نہیں کی ہے۔ امریکہ نے 13 نکات پر مشتمل پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے اور زور دیا ہے کہ اسے اقوام متحدہ چارٹر کی ساتویں شق کے تحت عائد کیا جائے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ پابندیاں بذریعہ فوج عائد کی جائیں گی۔ کونڈولیزا رائس نے ایک انٹرویو میں شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست امریکی مذاکرات کے امکان کو رد کردیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی فوجی تجارت پر پابندی عائد کی جائے اور ملک سے باہر اور اندر جانے والے کارگو کا بغور معائنہ کیا جانا چاہیئے۔ تاہم جاپان اپنے سرحدی علاقے کے ذریعے شمالی کوریا جانے والے جہازوں اور بحری جہازوں پر مکمل پابندی چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لارا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ امید کی جارہی ہے کہ اس ہفتہ کے اختتام تک اس سلسلے میں کسی معاہدے پر اتفاق ہوجائے گا۔ روس ماضی میں چین کی طرح پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اب اس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کے پرامن سفارتی حل کے لیئے مشترکہ کوششوں میں ساتھ دے گا۔ شمالی کوریا پر چین کا سب سے زیادہ اثر تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے سلسلے میں چین کا کردار سب سے زیادہ اہم رہے گا۔ صرف ایران نے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کی ہے۔ شمالی کوریا نے زیر زمین ایٹمی تجربات ہیمگیونگ شوبے میں پیر کی صبح دس بج کر چھتیس منٹ پر کیئے تھے۔ فرانس کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ پیر کا دھماکہ اتنا چھوٹا تھا کہ یا تو یہ ناکام تجربہ تھا یا پھر غیر جوہری دھماکہ۔ آسٹریلیا کے وزیر خرجہ الیگزینڈر ڈاؤنر نے کہا تھا کہ امکان ہے کہ شمالی کوریا دوسرا دھماکہ ضرور کرے گا۔ | اسی بارے میں ’ایٹمی دھماکہ برداشت نہیں‘08 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا کا ایٹمی تجربہ09 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا کی دھمکی07 July, 2006 | آس پاس امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس میزائل ٹیسٹ: شمالی کوریا پر دباؤ20 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||