BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پابندیوں پر پہلی بار بات چیت
 امریکی مذاکرات اعلٰیٰ کرسٹوفر ہل
مسٹر ہل نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے ( فائل فوٹو)
پہلی مرتبہ امریکہ اور شمالی کوریا پیانگ یانگ حکومت کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات شمالی کوریا کے جوہری معاملات پر ہونے والی چھ فریقی بات چیت کے موقع پر ہو رہی ہے۔

اس قبل چھ فریقی بات چیت کے بارے میں امریکہ کے مذاکرات اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پہلے دن کی بات چیت سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

اس بات کا اشارہ امریکہ کے مذاکرات اعلیٰ کرسٹوفر ہل نے دوسرے دن مذاکرات شروع ہونے سے قبل دیا۔ بیجنگ میں شمالی کوریا کے جوہری معاملات پر چھ فریقی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مذاکرات میں چین، جاپان، روس، امریکہ اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک جوہری پروگرام کی بندش کی تجویز پر غور نہیں کرے گا جب تک کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا نہیں لی جاتیں۔

مسٹر ہل کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ پہلے دن کی بات چیت میں کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے کہ جس کے بارے میں میں اطمینان کا اظہار کر سکوں‘۔

امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی نہیں کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہے (فائل فوٹو)

ایک سال کے تعطل کے بعد ہونے والے چھ ملکی مذاکرات میں شرکت کے لیے شمالی کوریا نے شرائط رکھی تھیں۔ شمالی کوریا نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ جوہری ہتھیار بنانے کا عمل رفتار تیز کردے گا۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے نو اکتوبر کو شمالی کوریا کی جانب سے جوہری آلات کے تجربات کرنے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ واشنگٹن کی جانب سے بھی گزشتہ سال شمالی کوریا پر مبینہ منی لانڈرنگ اور امریکی ڈالر کی جلعل سازی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔

امریکہ کے نائب سیکریٹری آف سٹیٹ کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جیسے کمزور ملک نے ابھی تک کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور اگر یہ بات چیت ناکام ہوگئی تو اسے بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کسی معاہدے پر پہنچنا چاہیے کیونکہ شمالی کوریا کو علم ہے کہ ملک میں سکول، صحت کے ادارے ، سڑکیں اور ہوائی اڈے کتنے ضروری ہیں۔ اسے بہت سے چیزوں کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں چاہیں نہ کہ جوہری ہتھیار۔

شمالی کوریا کے سفیر کم کی گوان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو بھی امریکی ہی کی طرح جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل ہے اور اس کے جوہری پروگرام کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اس وقت بات چیت ہتھیاروں کی تخفیف پر ہونی چاہیے۔

جوہری معاملات پر مذاکرات
 بیجنگ میں شمالی کوریا کے جوہری معاملات پر چھ فریقی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مذاکرات میں چین، جاپان، روس، امریکہ اور جنوبی کوریا شامل ہیں

شمالی کوریا اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ اسے توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے جوہری ری ایکٹر کی ضرورت ہے۔ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف 2005 میں ہونے والے مذاکرات کے آخری مرحلے سے احتجاجاً الگ ہو گیا تھا۔

ستمبر 2005 میں اس واقعے سے کوئی دو ماہ قبل شمالی کوریا نے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی اور امداد دیئے جانے کی یقین دہانی کے بعد اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم واشنگٹن کا موقف تھا کہ وہ شمالی کوریا کو بطور ایک جوہری ریاست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات بڑی امید افزا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے تاہم ان سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کے بارے میں شبہات ہیں۔

تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
جیفری رچلسن ناکامی کیوں ہوئی؟
شمالی کوریا پر امریکی جوہری جاسوسی ناکام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد