مذاکرات دوبارہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ختم کرانے کے لیے چھ فریقی بات چیت آج سے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شروع ہو رہی ہے۔ ان مذاکرات میں امریکہ، چین، جاپان، روس، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ سال نومبر میں شمالی کوریا پر پابندیاں لگادی تھیں۔ اس پر شمالی کوریا نے احتجاجاً مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا۔ اس سال اکتوبر میں شمالی کوریا نے جوہری تجربہ کیا تو عالمی برادری نے اس کی مذمت کی اور اقوام متحدہ نے بھی پابندیوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ یہ مذاکرات ایک سال سے جاری سفارتکاری کا نتیجہ ہیں۔ تاہم امریکی مذاکرات کار کرسٹوفر ہِل کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر گز شمالی کوریا کو ایک جوہری طاقت تسلیم نہیں کرے گا۔ تاہم ان مذاکرات میں شمالی کوریا کے مندوب کِم کیےگوان نے کہا کہ ان کے ملک کو جوہری ر بروگرام کی ضرورت دفاعی بنیادوں پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ امریکہ ہے۔جب تک وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل نہیں کرتا کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔‘ | اسی بارے میں ’اتوار کو مذاکرات کروں گا‘17 December, 2006 | آس پاس ’شمالی کوریا پر حاوی نہ ہوں‘25 October, 2006 | آس پاس پابندیاں ’جنگ کا اعلان ہیں‘17 October, 2006 | آس پاس امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||