BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 December, 2006, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اتوار کو مذاکرات کروں گا‘
امریکی سفیر کرسٹوفر ہل
کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ مزاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں
جنوبی کوریا کے جوہری پروگرام پر مزاکرات کرنے والے امریکی سفیر نے کہا ہے کہ وہ پیونگ یانگ کے سفیر سے اتوار کو چھ پارٹی مزاکرات سے قبل بات چیت کریں گے۔

چھ پارٹی مذاکرات بیجنگ میں ایک سال زیادہ عرصے کے بعد سوموار کو دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔

امریکی سفیر کرسٹوفر ہل نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے سفیر سے اکتوبر میں پیونگ یانگ میں ہونے والے جوہری ٹیسٹ کے بعد امریکی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کا ابھی تک شمالی کوریا کو ایک جوہری طاقت کے طور پر قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

لیکن شمالی کوریا کے سفیر کِم کی گان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت اپنے دفاع کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا ’سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی شمالی کوریا کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسی تبدیل کرے‘۔

’جب وہ اپنی پالیسی کو غیر دوستانہ سے پرامن بنائیں گے تو مسئلہ خود بخود ختم ہو جائے گا‘۔

امریکی سفیر نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہے‘۔

انہوں نے کہا ’شمالی کوریا کے جوہری پروگراموں کی طرف ہمارا رویہ جارحانہ ہے‘۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ’ہم نے یہ بات واضح طور پر انہیں بتا دی ہے کہ ہمارا شمالی کوریا پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔

شمالی کوریا کے سفیر کِم کی گان
شمالی کوریا کے سفیر کِم کی گان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت اپنے دفاع کے لیے ہے۔

اس سے قبل سفارت کار سے بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ امریکہ اس بات پر رضامند ہو سکتا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو روک دے تو وہ اس کی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔

کرسٹوفر ہل نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ واشنگٹن اس بات کے لیے تیار ہے کہ وہ پیونگ یانگ کی درخواست کے مطابق شمالی کوریا پر لگائی گئیں اقتصادی پاپندیوں کو نرم کر دے گا۔

لیکن دونوں ملک شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر اتفاق نہیں کر رہے۔

چھ پارٹی بات چیت میں شمالی کوریا، امریکہ، چین کے علاوہ علاقائی طاقتیں جن میں جنوبی کوریا، جاپان اور روس شامل ہیں، شریک ہو نگے۔

اسی بارے میں
شمالی کوریا، مزید دھمکی
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد