BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 05:40 GMT 10:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین میں پانی کی قلت
چین
چین میں دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنایا جا رہا ہے
چین کے کچھ علاقے گزشتہ پچاس سالوں میں آنے والی بدترین خشک سالی سے گزر رہے ہیں لیکن شہروں میں پانی کی طلب ترقی کی رفتار کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ پانی کی موجودہ طلب کو مستقبل میں پورا کیا جانا ممکن نہ ہوگا۔

یہ دارالحکومت بیجنگ سے زیادہ دور کے علاقوں کی صورت حال نہیں ہے کہ بلکہ بیجنگ کے قریبی علاقوں میں بھی پہنچ کر لگتا ہے کہ آپ کسی دوسری دنیا میں آ گئے ہوں۔

چین کے دیہی علاقوں میں کچے اور گھاس پھونس کے مکانوں میں شاید بجلی تو پہنچ گئی ہو اور آپ کو ٹیلی ویژن سیٹ بھی مل جائیں لیکن ان علاقوں میں ٹیلی فون نہیں ملے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی معاشی ترقی کے ثمرات ابھی ان علاقوں تک نہیں پہنچے۔

پیشتر دیہاتوں میں کچی سڑکوں کے کنارے گھاس پھونس کے مکانوں کے قریب غریب کسان بنجر اور سخت زمین میں بکریاں چراتے ملیں نظر آئیں گے۔

ان شمالی علاقوں میں خشک سالی زندگی کا ایک جز ہے لیکن اس سال گزشتہ کئی دہائیوں میں آنے والی بدترین خشک سالی نے ان علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔


عظیم دیوار چین کے قریب واقعے ایک گاؤں میں خشک سالی کے اثرات بہت نمایاں تھے۔

اس پہاڑی علاقے میں پہاڑ کی ڈھلوانیں خشک سالی کے باعث خاکی ہورہی تھیں اور ان پر کہیں کہیں سزے کے چھوٹے چھوٹے قطعے نظر آ رہے تھے۔ اس علاقے میں گزشتہ چھ ماہ سے بارش نہیں ہوئی۔

علاقے کے ایک کسان سونگ کا کھیت گرد کے ایک میدان کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔ عام حالات میں ان مہینوں میں اس کھیت میں فصل نظر آتی ہے لیکن اس سال ابھی تک بارش نہ ہونے کے سبب یہ گرد کا میدان دکھائی دیتا ہے۔

اس دیہات کے لوگ پینے کا پانی پرانے کنوؤں سے حاصل کرتے ہیں لیکن زیر زمین کی پانی کی سطح بھی گرتی جا رہی ہے۔

گاؤں میں گھوم کر اندازہ ہوا کہ بہت سے لوگ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں یا جا رہے ہیں۔ لیکن ہر کوئی اتنا خوش نصیب نہیں کہ وہ گھر چھوڑ کر جا سکے۔ سونگ نے کہا کہ وہ کہاں جائے۔ ’ میں گزشتہ بیس سال سے یہاں رہ رہا ہوں۔‘

مقامی حکام اس ہیپی ویلی کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں لیکن ان کے پاس سونگ جیسے دیہاتیوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں۔

چین میں سونگ جیسے تیس کروڑ لوگ موجود ہیں جو دیہاتوں میں رہتے ہیں اور ان کو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ آلودگی کی بنا پر حکومت کا کہنا ہے کہ دریاؤں کا چالیس فیصد پانی صرف صنعتی ضروریات یا زراعت کے لیے ٹھیک ہے۔

چین میں دنیا کی بیس فیصد آبادی ہے جبکہ یہاں دنیا میں پانی کے ذخائر کا صرف سات فیصد چین میں ہے۔

لیکن دارالحکومت بیجنگ میں آپ کو کبھی نہیں معلوم ہو سکے گا کہ دیہی علاقوں میں پانی کا اس قدر شدید بحران ہے۔ بیجنگ کے پارکوں میں فواروں سے پودوں کو پانی دیا جارہا ہو گا جبکہ دیہی علاقوں میں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔

حکومت شہر کو اولین ترجیح دیتی ہے اور دیہاتوں کو اس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔

تیز رفتار اقتصادی ترقی سے یہ مسئلہ اور زیادہ سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے۔

کجھ لوگوں کو اس پر شدید تشویش ہے اور چوئی ہانگ ان ہی میں سے ہے۔

چوئی ہانگ اپنے فلیٹ میں واشنگ مشین کا استعمال شدہ پانی فرش دھونے اور فلش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ملک کے جنوبی علاقوں سے پانی شمالی علاقوں میں لیے جانے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس پر کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

ماحولیات کے ماہر ما جن کا جو چین کے پانی کے بحران پر ایک کتاب بھی تحریر کر چکے ہیں کہنا ہے کہ پانی جس رفتار سے استعمال کیا جارہا ہے اس جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوب سے شمالی علاقوں میں پانی لیے جانے کا منصوبہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسی طرح کہ آپ جلتی ہوئی آگ کو ایک کپ پانی سے بجھانا چاہیں۔

جس خطے میں بیجنگ اور تیاجن آباد ہیں ان علاقوں میں واقع بعض شہروں میں اگلے پانچ سے سات برسوں میں پانی نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ٹائم بم ہے جو ایک نہ ایک دن پھٹ جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد