BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا بچوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام‘
بچے کی زندگی کے پہلے دوسال غذا کی افادیت کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں
بچوں کے لیئے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ عالمی برادری یہ یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کے کھانے کی ضروریات کے مطابق انہیں خوراک میسر ہے یا نہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے لے کر اب تک پانچ سال سے کم عمر کے ان بچوں کی تعداد میں واضح کمی واقع نہیں ہوسکی ہے جن کا وزن ان کی عمر کے لحاظ سے کم ہے یا وہ ’انڈر ویٹ‘ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بچے جنہیں ضرورت سے کم خوراک میسر آتی ہے، ان میں سے نصف فیصد جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں۔ کم خوراکی کے باعث ہر سال دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے پانچ فیصد بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آیوڈین کی کمی
آیوڈین کی کمی سے دنیا بھر کے 37 ملین نومولود بچے کسی نہ کسی جسمانی و ذہنی کمی یا معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
یونیسف

اقوام متحدہ کے چند اہم مقاصد (ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز) میں سے ایک یہ ہے کہ 2015 تک شدید غربت اور بھوک سے چھٹکارا پایا جائے۔ تاہم ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے مناسب اقدامات کرتی نظر نہیں آرہی۔

ترقی پذیر ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے ستائیس فیصد کو مناسب خوراک میسر نہیں ہے۔ ان بچوں کی تعداد 146 ملین ہے۔

بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں یہ مسئلہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جہاں اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزن رکھنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچے دنیا بھر میں بسنے والے ایسے بچوں کا نصف فیصد ہیں۔

مشرقی اور جنوبی افریقہ میں باقاعدہ قحط کے باعث 29 فیصد بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔

اس معاملے میں چین کی پیش رفت بہتر ہے جہاں کم وزن بچوں کی تعداد سات فیصد سالانہ کی رفتار سے کم ہورہی ہے تاہم علاقے کے دوسرے ممالک یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نصف فیصد کم وزن بچے جنوبی ایشیا میں
بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں یہ مسئلہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جہاں اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزن رکھنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچے دنیا بھر میں بسنے والے ایسے بچوں کا نصف فیصد ہیں۔

لاطینی امریکہ اور کیریبین میں صرف سات فیصد بچے کم وزن ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 15 فیصدہے۔

بچوں کی بڑھان میں وٹامن اور معدنیات اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان اجزاء کی کمی بچوں میں کئی بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ مثلاً آیوڈین کی کمی سے دنیا بھر کے 37 ملین نومولود بچے کسی نہ کسی جسمانی و ذہنی کمی یا معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یونیسف ایسے سادہ و آسان اقدامات پر زور دے رہا ہے جن سے بچوں کی صحت میں بہتری ممکن ہے مثلاً وٹامن اے کے کیپسول اور زیادہ غذائیت والی خوراک کا استعمال وغیرہ۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ہر ملک کی مرکزی پالیسیوں کا حصہ ہونا چاہیئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے دو سال غذا کی افادیت کے اعتبار سے بے انتہا اہم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے تاکہ ان کی بنیادی صحت اچھی ہوسکے۔

اسی بارے میں
بچے شکایت درج کرا سکیں گے
25 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد