’دنیا بچوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کے لیئے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ عالمی برادری یہ یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کے کھانے کی ضروریات کے مطابق انہیں خوراک میسر ہے یا نہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے لے کر اب تک پانچ سال سے کم عمر کے ان بچوں کی تعداد میں واضح کمی واقع نہیں ہوسکی ہے جن کا وزن ان کی عمر کے لحاظ سے کم ہے یا وہ ’انڈر ویٹ‘ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بچے جنہیں ضرورت سے کم خوراک میسر آتی ہے، ان میں سے نصف فیصد جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں۔ کم خوراکی کے باعث ہر سال دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے پانچ فیصد بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے چند اہم مقاصد (ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز) میں سے ایک یہ ہے کہ 2015 تک شدید غربت اور بھوک سے چھٹکارا پایا جائے۔ تاہم ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے مناسب اقدامات کرتی نظر نہیں آرہی۔ ترقی پذیر ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے ستائیس فیصد کو مناسب خوراک میسر نہیں ہے۔ ان بچوں کی تعداد 146 ملین ہے۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں یہ مسئلہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جہاں اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزن رکھنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچے دنیا بھر میں بسنے والے ایسے بچوں کا نصف فیصد ہیں۔ مشرقی اور جنوبی افریقہ میں باقاعدہ قحط کے باعث 29 فیصد بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ اس معاملے میں چین کی پیش رفت بہتر ہے جہاں کم وزن بچوں کی تعداد سات فیصد سالانہ کی رفتار سے کم ہورہی ہے تاہم علاقے کے دوسرے ممالک یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
لاطینی امریکہ اور کیریبین میں صرف سات فیصد بچے کم وزن ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 15 فیصدہے۔ بچوں کی بڑھان میں وٹامن اور معدنیات اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان اجزاء کی کمی بچوں میں کئی بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ مثلاً آیوڈین کی کمی سے دنیا بھر کے 37 ملین نومولود بچے کسی نہ کسی جسمانی و ذہنی کمی یا معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یونیسف ایسے سادہ و آسان اقدامات پر زور دے رہا ہے جن سے بچوں کی صحت میں بہتری ممکن ہے مثلاً وٹامن اے کے کیپسول اور زیادہ غذائیت والی خوراک کا استعمال وغیرہ۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ہر ملک کی مرکزی پالیسیوں کا حصہ ہونا چاہیئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے دو سال غذا کی افادیت کے اعتبار سے بے انتہا اہم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے تاکہ ان کی بنیادی صحت اچھی ہوسکے۔ | اسی بارے میں یونیسف کی تعلیمی مہم کرکٹ کے ذریعے18 July, 2004 | کھیل بچوں کی تجارت: جنوبی ایشیا خبردار29 September, 2004 | آس پاس بچے شکایت درج کرا سکیں گے25 November, 2004 | پاکستان بچوں کو واپس لانے والے گرفتار08 July, 2005 | پاکستان ’ڈر لگتا تو اونٹ سے چپٹ جاتا تھا‘17 August, 2005 | پاکستان یونسیف اور خواتین کرکٹ19 August, 2005 | کھیل آٹھ لاکھ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے12 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||