BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچوں کو واپس لانے والے گرفتار

 جوکی بچے
پولیس اہلکار متحدہ عرب امارت سے واپس لائے جانے بچوں میں سے ایک کو دلاسہ دے رہا ہے۔
پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان بیس مردوں اور عورتوں کو حراست میں لے لیا ہے جو اونٹ ریس کے لیے سمگل شدہ چھیاسی بچوں کے ہمراہ آج متحدہ عرب امارات سے واپس لوٹے ہیں۔

بچوں کو لاہور کے ائر پورٹ پر ہی ایک سرکاری ادارے چائلڈ پرو ٹیکشن بیورو نے اپنی تحویل میں لے لیاہے ۔

ائر پورٹ پر ہی حراست میں لیے جانے والے نومردوں اورگیارہ عورتوں پر شبہ ہے کہ وہ بچوں کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ لوگ ان بچوں کے والدین ہیں یا جعلی والدین ہیں یا بردہ فروش ایجنٹ ہیں۔ تاہم ان سے تفتیش جاری ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسف کے تعاون سے ان بچوں کی واپسی ممکن ہوئی ہے اور یہ اب تک پاکستان لوٹنے والے جوکی بچوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

وزیر اعلی پنجاب کی مشیر برائے حقوق اطفال، ڈاکٹر فائزہ اصغر کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کی آمد کا سلسلہ متحدہ عرب امارات میں موجود آخری پاکستانی جوکی بچے کی واپسی تک جاری رہے گا۔

ان اونٹ سوار بچوں کی واپسی کا عمل یونیسف کے تحت پچھلے مہینے ہونے والے اس معاہدے کے تحت شروع ہوا جس پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ بنگلہ دیش،سوڈان اور ماریشس کی حکومتوں نے دستخط کیے ہیں۔

تقریباً تین ہفتے پہلے بائیس بچوں کا پہلا گروپ ابوظہبی سے پاکستان لوٹا تھا۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے اسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر احمد شاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے چودہ بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ان سے ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانت نامے لیکر انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے بچوں کو اونٹ ریس کے لیے نہیں بھجوائیں گے۔

جمعہ کی صبح آنے والے چھیاسی بچوں کے اس گروپ کے بیشتر بچوں کی عمریں تین سے بارہ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں جبکہ چند ایک سترہ اور اٹھارہ سال کے بھی ہیں۔

زبیر احمد شاد نے کہا کہ ان بچوں کو لاہور میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے راۓ ونڈ روڈ کے انسٹی ٹیوٹ میں منتقل کر دیا جاۓ گا جہاں انہیں ان کے والدین سے ملوانے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ان بچوں کی طبی امداد بھی کی جاۓ گی اور نفسیاتی بحالی کا کام بھی کیا جائے گا۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ایک افسر مہد حسین نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق عرب ریاستوں میں تین ہزار کے قریب بچے موجود ہیں جن کی واپسی کا عمل شروع ہوچکاہے۔

انہوں نے کہاکہ ان بچوں کے والدین غربت کی وجہ سے انہیں بیرون ملک بھجواتے ہیں لیکن ان ایسے اقدمات کیے جارہے ہیں کہ بچوں کی مزید سمگلنگ روکی جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کے خاندانوں کے لیے کچھ ایسی سکیمیں شروع کی جارہی ہیں جس سے ان کی بچوں کی خاندان کی آمدن شروع ہوسکے اور وہ غربت کی وجہ سے بچوں کو اونٹ ریس جیسے بہیمانہ کھیل کے لیے نہ بھجوائیں۔

عرب ریاستوں میں اونٹ ریس کے لیے غریب ممالک سے بچوں کو سمگل کیا جاتا رہا ہے ان بچوں کو بطور جوکی اونٹ پر بٹھایا جاتا ہے یہ بچے جتنا زیادہ چیختے چلاتے ہیں اونٹ اتنا ہی تیز دوڑتا ہےاس دوران بچے زخمی بھی ہوتے ہیں اور عمر بھر کے لیے معذور بھی ہوجاتے ہیں۔

یونسیف نے عرب ریاستوں کے اونٹ ریس کے منتظمین کو اونٹ ریس کے لیے بچوں کی جگہ روبوٹ استعمال کرنے پر رضامند کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد