بچوں کی جگہ روبوٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس سال اونٹوں کی دوڑ میں بچوں کی جگہ روبوٹ استعمال کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے کو ان روبوٹس کے ایک نمونے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارت میں بچوں کی جگہ روبوٹ استعمال کرنے کا فیصلہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس خوفناک دوڑ میں کم سن بچوں کے بہیمانہ استعمال پر تنقید کے بعد کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خلیجی ممالک میں تقریباً چالیس ہزار کے قریب بچے ’چائلڈ جوکیز‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اونٹوں کی دوڑ خلیجی ممالک میں ایک تقافتی کھیل ہے اور ان کے تقافتی ورثے کا اہم جز ہے۔ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک قانون کے ذریعے اس دوڑ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ اس دوڑ کے لیے خاصی طور ہلکے اور ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے مکینکی ربوٹ تیار کیے گئے ہیں جن کے ایجاد کیے جانے سے اب کسی کو اس قانون کی خلاف ورزی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ان روبوٹس کے تجربے کے دوران متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے ارکان بھی موجود تھے جو ان ربوٹس کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوئے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اس دوڑ میں استعمال کیے جانے والے بعض بچے صرف چار سال کی عمر کے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے اغوا شدہ ہوتے ہیں جنہیں اونٹوں کے مالک خرید لیتے ہیں۔ ان بچوں کو قید میں رکھا جاتا ہے اور ان کو کھانے کے لیے بھی کم خوراک مہیا کی جاتی ہے تاکہ ان کا وزن نہ بڑھ سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||