’ڈر لگتا تو اونٹ سے چپٹ جاتا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ عرب امارات سے اونٹ ریس میں استعمال ہونے والے تیس پاکستانی بچے لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ آنے والے ان پنتالیس مردوں اور عورتوں کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے جو ان کے ہمراہ ابو ظہبی سے پاکستان لوٹے ہیں۔ پاکستانی بچے منگل کی صبح لاہور ائیر پورٹ پر پہنچے تو پاکستانی حکام انہیں بچوں کے فلاح وبہبود کے سرکاری ادارے میں لے آئے اونٹ ریس میں بطور جوکی استعمال کیے جانے والے یہ بچے عرب ریاستوں میں اونٹوں سے ڈرتے بھی رہے اور روتے بھی رہے۔ ایک پانچ سالہ بچے جہانگیر خان نے کہا کہ ’مجھے پہلے اونٹ سے ڈر لگتا تھا اور میں روتا بھی تھا لیکن پھر میں اونٹ کو زور سے پکڑلیتا پھر میں گرتا بھی نہیں اور روتا بھی نہیں تھا۔‘ اسی کے ہم عمر ایک بچے ساجد منیر نے کہا کہ ’وہ مجھے کہتے تھےکہ اونٹ کو پیار کرو اونٹ سرکس کرتا تھا مجھے ڈر لگتا تھا پھر میری امی ابو آئے انہوں نے مجھے کھانا کھلایا پھر کھانا ختم ہوگیا ، صبح ہوئی تو وہ چلے گئے میں بس اونٹ کوزور سے پکڑ لیتا تھا اس لیے نہیں گرتا تھا۔‘ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں یا تو اغوا کیا گیا تھا یا پھر ان کے والدین کو جھانسہ دیا گیا کہ ان کے بچوں کو عرب ریاستوں میں گھریلو ملازم رکھا جائے گا لیکن اس کی بجائے انہیں اونٹ ریس جیسے وحشیانہ کام میں استعمال کیا جاتا رہا۔ حال میں یونیسف نے اونٹ ریس کے منتظمین کو اس بات پر رضا مند کر لیا ہے کہ ریس میں اونٹ پر بچوں کی بجائے روبوٹ بٹھائے جائیں۔ اس فیصلے کے بعد پاکستانی بچے واپس بھیجے جا رہے ہیں۔اس سے پہلے ایک سو بائیس بچے وطن واپس آچکے ہیں ایک پاکستانی افسر زبیر احمد شاد کہتے ہیں ان میں سے اٹھانوے بچے ان کے والدین کو لوٹائے جاچکے ہیں تین چارکے کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جبکہ باقی بچوں کے والدین کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ جن کے والدین کا علم نہیں ہوسکے گا وہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیر انتظام اداروں میں زندگی بسر کریں گے۔ ان بچوں کے ہمراہ آنے والے پنتالیس مرد اور عورتیں امیگریشن حکام کی حراست میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد بچوں کے حقیقی والدین کو چھوڑ دیا جائے گاجبکہ بردہ فروش یا ایجنٹوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ کل یعنی بدھ کی شام پاکستانی بچوں کا ایک اور گروپ پاکستان لوٹ رہا ہے۔ عرب ریاستوں میں ابھی بھی کتنے بچے موجود ہیں اس کا بالکل درست اندازہ پاکستانی حکام کو بھی نہیں ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ تعداد دو سے تین ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||