BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 June, 2005, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امارات سے بائیس بچوں کی واپسی

ان بچوں کی عمریں چھ سے سولہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں
ان بچوں کی عمریں چھ سے سولہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں
عرب ریاستوں میں اونٹ ریس کے لیے انسانوں کے بچوں کی بجائے روبوٹ بچے استعمال کرنے کی تجویز کے بعد اونٹ ریس کے لیے عرب ریاستوں میں سمگل ہونے والے بچے واپس ان کے وطن لوٹائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں بائیس بچوں کی پہلی کھیپ منگل کی صبح پاکستان پہنچ گئی۔

یہ بچے صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہور ائیرپورٹ پہنچے۔

واپس آنے والے بچوں کی تعداد پہلے چوالیس بتائی گئی تھی مگر سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صرف بائیس بچے ہیں پاکستان آسکے۔ باقی بچے آہستہ آہستہ دوسری کھیپوں میں لائے جائیں گے۔

ان بچوں کو اونٹ کی ریس میں بطور جوکی استعمال کیا جاتا تھا
بچوں کو ان کے والدین کے ملنے تک سرکاری تحویل میں رکھا جائے گا

مختلف عرب ریاستوں میں روائتی اونٹ ریس کے لیے بچوں کو بطور جوکی استعمال کیا جاتا ہے ایسے بچوں کو اونٹ کے اوپر باندھ دیا جاتا ہے بچہ خوفزدہ ہوکر جتنا زیادہ چیختا چلاتا ہے اونٹ اتنا ہی تیز دوڑتا ہے۔

اس دوران اونٹوں کی آپس میں ٹکر کے نتیجے میں بچے زخمی بھی ہوجاتے ہیں اور عمر بھر کے لیے معذوری بھی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔

زیادہ تر ان کے بازو اور ٹانگ کی ہڈیاں ٹوٹتی ہے یا ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر بھی ہوسکتاہے۔ان بچوں کی اونٹ ریس میں شمولیت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کی جاتی رہی ہے۔

 حکام کا کہنا ہے کہ عرب ریاستوں سے بچوں کی واپسی کے سلسلے کا یہ آغاز ہےجہاں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار سے زائد بچے وطن واپسی کے منتظر ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ عرب ریاستوں سے بچوں کی واپسی کے سلسلے کا یہ آغاز ہےجہاں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار سے زائد بچے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔

بچوں کی عمریں چھ سے سولہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں اور ان کی رہائی بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے ’یونیسف‘ کے تعاون سے عمل میں آئی ہے۔

صوبائی مشیر برائے تحفظ و حقوق اطفال ڈاکٹر فائزہ اصغر نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے یونیسف کے عہدیداروں اور متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ سے بات چیت کی جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ تمام بچے بتدریج واپس لائے جائیں گے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ایک افسر موحد حسین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے کم از کم تین ہزار بچوں کو اکٹھا کر لیا ہے جن میں سے ستر فی صد سے زائد پاکستانی ہیں۔ ان کے علاوہ ان میں بنگلہ دیشی اور بھارتی بچے بھی شامل ہیں۔

اونٹ ریس کا نشانہ بننے والے زیادہ تر بچوں کا تعلق رحیم یار خان اور جنوبی پنجاب کے دوسرے شہروں سے ہے۔

حکومت پنجاب کے ایک افسر زبیر احمد شاد کہتے ہیں کہ پاکستانی بچوں میں سے نوے فی صد بچے رحیم یار خان اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور متحدہ عرب امارت میں کئی ایسے بچے بھی ملے ہیں جن کے والدین کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں کے والدین کو ڈھونڈا جائے گا اور جو بہت غریب ہوئے ان کی مالی امداد بھی کی جائے گی۔ بچوں کو ان کے والدین کے ملنے تک سرکاری تحویل میں رکھا جائے گا اور اس دوران ان کا علاج معالجہ اور نفسیاتی بحالی کا عمل جاری رہے گا۔

زبیر احمد شاد نے ان بچوں کی بحالی کے لیے ریحم یار خان کا دورہ بھی کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ان خاندانوں سے ملے جن کے بچے اونٹ ریس کے لیے باہر گئے تھے۔

ان بچوں کے والدین کا خیال تھا کہ ان کا بچہ کام پر لگ گیا ہے اور جب انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ان کے بچے کو اونٹ ریس میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس کا بازو اور ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے اور وہ مر بھی سکتا ہے تو ان کے والدین کا کہنا تھا کہ ایسا تو پاکستان میں بھی ممکن ہے۔

زبیر احمد شاد کا کہنا ہے کہ انہیں وہاں بڑی ہی عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان بچوں کے والدین کا خیال تھا کہ ان کا بچہ کام پر لگ گیا ہے اور جب انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ان کے بچے کو اونٹ ریس میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس کا بازو اور ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے اور وہ مر بھی سکتا ہے تو ان کے والدین کا کہنا تھا کہ ایسا تو پاکستان میں بھی ممکن ہے۔ تاہم زبیر احمد شاد کو یقین تھا کہ اگر کبھی وہ اونٹ ریس میں بچوں کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ عمل کو ایک بار دیکھ لیتے تو ان کے نظریات بدل جاتے اور وہ کسی قیمت پر اپنے بچوں کو اس کام کے لیے باہر نہ بھجواتے۔

ان کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان کے بعض قبائل ایسے ہیں جن کے ستر فی صد بچے باہر سمگل ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ انہیں ایک علاقہ ایسا بھی ملا ہے جہاں کے نوے فی صد بچے بیرون ملک جا چکے ہیں اور ان کے نزدیک ان کے بچوں کو واپس بلانا ان کے ساتھ معاشی ناانصافی کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد