دھرتی مل گئی مگر ماں نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زیادہ تر تین سال سے پانچ سال تک کے چھوٹی جسامت کے سہمے ہوئے بچے وزراء اور سرکاری افسروں میں گھرے لاہور میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود تھے۔ وزراء اور وزیراعلی پنجاب نے ان کے ساتھ فوٹو کھنچوائے اور میڈیا کو انٹرویو دیے لیکن برسوں بعد وطن واپس آنےوالے یہ بچے مسکرا اور کھلکھلا نہیں رہے تھے۔ شائد اس لیے کہ ان کا استقبال کرنے والوں میں ان کا کوئی اپنا موجود نہیں تھا۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے ماں باپ کی تلاش ہے۔ یہ تئیس بچے متحدہ عرب امارات میں موجود تقریباً ان پونے تین ہزار پاکستانی بچوں میں سے ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے پاکستان سے سمگل کردیا گیا تھا تاکہ وہ اونٹوں کی دوڑ میں اونٹ سوار کے طور پر کام کرسکیں۔ جنوبی پنجاب کے دیہات میں غربت میں پلنے والے خوراک کی کمی کے شکار ان بچوں کا لاغر جسم ہی ان کی خوبی ٹھہرا کہ یہ پتلے دبلے بچے عرب ملکوں میں اونٹ دوڑ میں اونٹ کی سواری کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ منگل کو جو بچے آئے انہوں نے پریس کے سامنے بات چیت نہیں کی۔ وہ بات چیت نہیں کرتے اور اگر کچھ پوچھا جائے تو بہت نیچی آواز میں بہت مختصر سا ایک دو لفظوں کا جواب دیتے ہیں۔ وہ ہجوم سے شرما رہے تھے یا اتنے کم عمر تھے اور ایسے ماحول میں رہے تھے کہ ان کی ذہنی اور شعوری ترقی نہیں ہوئی کہ وہ بات چیت کرسکیں، صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ تئیس میں سے چند بچے تقریبا بالغ عمر کے تھے جن میں سترہ سال کے عبدالحمید بھی تھے۔ رحیم یار خان کے چک اٹھاسی کے رہنے والے عبدالحمید خان کو دس سال پہلے ان کا ایک رشتہ دار گھر کے کام کاج کی نوکری کے بہانے سے دبئی لے گیا تھا جہاں انہیں اونٹوں کی دیکھ بھال پر لگادیا گیا کیونکہ ا ن کی عمر اونٹ سواری کے لیے زیادہ تھی اور وزن بھی۔ عبدالحمید خان کہتے ہیں کہ انہوں نے اونٹ دوڑیں بھی دیکھیں۔ ان اونٹوں پر کم عمر بچوں کو ان کےہاتھ پاؤں باندھ کر بٹھادیا جاتا تھا اوراگر وہ گر پڑتے تو اونٹ کے قدموں تلے آکر زخمی ہوجاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو لوبیا اور دال کھانے کو دی جاتی تاکہ ان کا وزن نہ بڑھے۔ نوجوان عبدالحمید کا کہنا ہے کہ ان کی ماں تو وفات پاگئیں لیکن والد زندہ ہیں اور وہ ان کے انتظار میں ہیں کیونکہ انہوں نے اس کی آمد کے موقع پر اپنا موبائل فون بند کیا ہوا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ اس کے والد نے ایسا کیوں کیا ہے۔
اسے نہیں معلوم کے شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا باپ حکومت سے ڈرتا ہے۔ پنجاب حکومت کی مشیر ڈاکٹر فائضہ اصغر کا کہنا ہے کہ بچوں کے ماں باپ کو اپنے بچوں کی تحویل لینے کے لیے بچوں کی نئی قائم کردہ عدالت کے ذریعے قانونی راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور پنجاب حکومت سے اس بچے کےمستقبل کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنا پڑیں گے۔ ڈاکٹر فائضہ اصغر کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے زیادہ تر بچوں کی کوئی شناخت نہیں ان کے ماں باپ کا پتہ نہیں اور جب تک ان بچوں کے ماں باپ یا ورثاء نہیں ملتے پنجاب حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن بیورو انہیں اپنے پاس رکھے گا جسے یونیسیف نے اس کام کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سال چھ جون کو پاکستان نے یونیسیف کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے اونٹ دوڑ میں استعمال کیے جانے والے ان سمگل شدہ بچوں کو وطن واپس لانے کا معاہدہ کیا تھا۔ وفاقی وزیر طارق عظیم نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں اونٹ دوڑ کے لیے جو نجی کلب ہیں ان میں ستر فیصد بچے پاکستان کے ہیں جبکہ دوسروں کا تعلق بنگلہ دیش، بھارت، ماریطانیہ وغیرہ سے ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان سے گئے ہوئے بچوں کی اکثریت کا تعلق جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کے اضلاع سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان اور قطر میں بھی پاکستان سے سمگل کیے ہوئے بچے اونٹ دوڑ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اونٹ دوڑ میں استعمال کیے جانے والے ایسے بچے پہلے بھی وطن واپس آتے رہے ہیں لیکن پہلی بار حکومت کی منظم کوشش سے یہ بچے واپس آئے ہیں اور یونیسیف کے تعاون سے ان کی بحالی کے لیے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں مراکز بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کو لے جانے کا طریقہ یہ ہے کہ عورتیں کم سن بچوں کو اپنے بچے ظاہر کرکے پاکستان سے اپنے پاسپورٹ پر لے جاتی ہیں اور انہیں وہاں چھوڑ کر واپس آجاتی ہیں۔ ان بچوں کے پاس نہ کوئی شناخت ہے نہ پاسپورٹ یا سفری دستاویز۔ انہوں نے بتایاکہ ان بچوں کو زیادہ تر غربت کی وجہ سے ان کے ماں باپ بیچتے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق جو بچے حالیہ عرصہ میں واپس آئے ہیں ان میں سے آدھے ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کو نہیں جانتے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ایسے لاوارث بچوں کو ایدھی مرکز میں رکھا گیا تو ان کو لینے کے لیے ان کے ماں باپ ہونے کا دعوی لے کر لوگ آئے لیکن جب ان سے ثبوت کے لیے خون کا ٹیسٹ دینے کا کہا گیا تو غائب ہوگئے کیونکہ وہ ان کے اصل ماں باپ نہیں تھے اور انہیں دوبارہ سمگل کرنا چاہتے تھے۔ وفاقی وزیر کے مطابق متحدہ عرب امارات میں انیس سو نوے میں ایک قانون بنایا گیا تھا کہ اونٹ دوڑ میں سولہ سال سے کم عمر اور پینتالیس کلوگرام سے کم وزن کے بچے استعمال نہیں کیے جائیں گے لیکن اونٹ دوڑ کے شوقین عرب امراء اس قانون کی خالاف ورزی کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||