BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 March, 2005, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچوں کی سمگلنگ پر 600 مقدمات

اونٹوں کی دوڑ
بچوں کی سمگلنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ اونٹوں کی دوڑ کے لیے گزشتہ ڈھائی برسوں کے درمیان بچوں کی سمگلنگ میں ملوث چھ سو سے زیادہ ملزمان کے خلاف مقدمات داخل کیے گئے۔

منگل کے روز صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران تین سو مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے اور چونسٹھ افراد کو سزائیں سنائی گئیں۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے بچوں کی سمگلنگ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے متعلق بتایا کہ بیشتر لوگ ایران کے راستے دبئی جاتے ہیں۔ حکومت نے اس سرحد پر کافی سختی کردی ہے اور ایران حکومت سے بھی اس ضمن میں رابطہ کیا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ فیڈرل انوسٹیشگین ایجنسی ’ایف آئی اے‘ کے صدر دفتر میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ جبکہ سن دوہزار دو میں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا تھا جس کے تحت اس کاروبار میں ملوث افراد کو چودہ سال تک سزا دی جاسکتی ہے۔

ان کے مطابق بچوں کی سمگلنگ گزشتہ پینتیس برسوں سے جاری ہے لیکن موثر قانون سازی ان کی حکومت نے کی ہے۔ جس کے بعد بچوں کی سمگلنگ روکنے میں خاصی مدد ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت اونٹوں کی دوڑ میں شرکت کے لیے بچے کی عمر کم از کم چودہ برس جبکہ وزن پینتالیس کلوگرام ہونا لازم ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ جہاں زبردستی بچوں کو اونٹ دوڑ میں شرکت کی خاطر لے جایا جاتا ہے وہاں والدین غربت کی خاطر قانونی طریقہ کار کے مطابق دستاویزات پر بھی لے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق قانونی طور پر لے جانے والے بچوں کو روکنا قدرے مشکل ضرور ہے لیکن حکومت بچوں کے ہمراہ جائز سفری دستاویزات پر خلیجی ممالک جانے والوں سے واپسی پر بچوں کو ساتھ نہ لانے کے متعلق سختی اختیار کرے گی۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ جب سے متعلقہ قانون نافذ کیا گیا ہے، اس دن سے اب تک ستر سے اسی بچے خلیجی ممالک اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کی خاطر لے جائے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جن چھ سو سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ان میں اس کاربار میں ملوث ملزمان کے خلاف متعلقہ بچوں کے والدین اور قریبی عزیز و اقارب بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد