بچوں کی سمگلنگ پر 600 مقدمات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ اونٹوں کی دوڑ کے لیے گزشتہ ڈھائی برسوں کے درمیان بچوں کی سمگلنگ میں ملوث چھ سو سے زیادہ ملزمان کے خلاف مقدمات داخل کیے گئے۔ منگل کے روز صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران تین سو مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے اور چونسٹھ افراد کو سزائیں سنائی گئیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے بچوں کی سمگلنگ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے متعلق بتایا کہ بیشتر لوگ ایران کے راستے دبئی جاتے ہیں۔ حکومت نے اس سرحد پر کافی سختی کردی ہے اور ایران حکومت سے بھی اس ضمن میں رابطہ کیا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ فیڈرل انوسٹیشگین ایجنسی ’ایف آئی اے‘ کے صدر دفتر میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ جبکہ سن دوہزار دو میں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا تھا جس کے تحت اس کاروبار میں ملوث افراد کو چودہ سال تک سزا دی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی سمگلنگ گزشتہ پینتیس برسوں سے جاری ہے لیکن موثر قانون سازی ان کی حکومت نے کی ہے۔ جس کے بعد بچوں کی سمگلنگ روکنے میں خاصی مدد ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت اونٹوں کی دوڑ میں شرکت کے لیے بچے کی عمر کم از کم چودہ برس جبکہ وزن پینتالیس کلوگرام ہونا لازم ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جہاں زبردستی بچوں کو اونٹ دوڑ میں شرکت کی خاطر لے جایا جاتا ہے وہاں والدین غربت کی خاطر قانونی طریقہ کار کے مطابق دستاویزات پر بھی لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق قانونی طور پر لے جانے والے بچوں کو روکنا قدرے مشکل ضرور ہے لیکن حکومت بچوں کے ہمراہ جائز سفری دستاویزات پر خلیجی ممالک جانے والوں سے واپسی پر بچوں کو ساتھ نہ لانے کے متعلق سختی اختیار کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ جب سے متعلقہ قانون نافذ کیا گیا ہے، اس دن سے اب تک ستر سے اسی بچے خلیجی ممالک اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کی خاطر لے جائے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جن چھ سو سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ان میں اس کاربار میں ملوث ملزمان کے خلاف متعلقہ بچوں کے والدین اور قریبی عزیز و اقارب بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||