یہ کوچی کون ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا ذکر آج کل اکثر طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے رہتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صدیوں سے یہ سرحد بغیر کسی دستاویز کے باآسانی پار کرتے رہتے ہیں۔ ان پر نہ کسی کو کبھی اعتراض ہوا اور نہ کسی کو ان سے شکایت۔ یہ ہیں خانہ بدوش جنہیں مقامی زبان میں کوچی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں سردیاں ِبتا کر آج کل یہ دوبارہ افغانستان کا رخ کر رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقعے پاکستان کے قبائلی علاقے کا آج کل سفر کریں تو آپ کو صرف فوجی قافلے ہی نہیں بلکہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں خانہ بدوش بھی اسی سمت رواں دواں نظر آتے ہیں۔ مال بردار جانوروں کے گلوں میں بج رہی گھنٹیاں عجیب سا سماں پیدا کرتی ہیں۔ فوجیوں کے برعکس ان خانہ بدوشوں کی منزل یہ قبائلی علاقے نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے افغانستان ہے جہاں وہ موسم گرما گزارنے کے لئے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ معمول صدیوں سے بلاکسی روکاوٹ کے چلا آ رہا ہے۔ اونٹوں پر اپنا مختصر سا سامان جس میں خیمے، مرغیاں، اور بکریاں بھی شامل ہیں لادے یہ لوگ علاقے میں کشیدگی یا تناؤ سے بے نیاز اپنا پیدل سفر جاری رکھتے ہیں۔ راستے میں جانوروں کو ہانکنا ہو یا سستانے کے لئے پانی کے کسی ذخیرے کے قریب عارضی بندوبست کرنا ہو خانہ بدوش مرد اور عورتوں مل کر یہ تمام کام کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی امتیازی سلوک کی کسی کو شکایت نہیں۔ بچے بھی اپنی سی کوشش کر کے ہاتھ بٹاتے ہیں۔ دنیا کی جدت ان کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ غربت کی انتہا شاید یہیں نظر آئے۔ کئی کوچیوں کو جوتے سروں پر رکھے ننگے پاؤں چلتے دیکھا۔ ان میں ایک نوجوان بائیس سالہ نحج خان بھی تھا۔ اس سے پوچھا کہ ہر وقت سفر کی حالت میں رہنا اس پسند ہے تو اس کا کہنا تھا کہ اس کے بغیر گزارہ مشکل ہے ان کا بھی اور ان کے جانوروں کا بھی۔
اور جب یہ پوچھا کہ افغانستان میں بھی تو گرم علاقے ہوں گے پھر پاکستان کیوں تو اس کا جواب وہی تھا کہ وہاں گزارہ نہیں ہوتا۔ ان خانہ بدوشوں کی معیشت ان کے جانوروں کے گرد ہی گھومتی ہے۔ انہیں فروخت کرکے وہ اپنے دیگر اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اس سے پوچھا کہ انہیں کیا ویزے کا مسئلہ نہیں رہتا تو اس کا کہنا تھا نہیں ان کا ویزے سے کچھ نہیں لینا دینا۔ ’ہم ویزوں سے بے نیاز ہیں‘۔ پوچھا کہ آپ اپنے آپ کو افغان سمجھتا ہے یا پاکستانی تو قہقہا لگا کر اس نے بڑی معصومیت سے کہا کہ شاید دونوں ہی ہیں یا درمیان میں کچھ ہیں۔ البتہ حکومتوں کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں۔ گذشتہ برس پاکستان اور افغانستان میں خشک سالی نے ان کوچیوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی نسلوں پرانی روایت اور طرز حیات ترک کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بارشیں نہ ہونے سے چراہ گاہیں خشک ہوگئیں اور جانور مرنے لگے تو ان کوچیوں نے شہروں میں کام کاج کا رخ کیا۔ لیکن اب موسم کے دوبارہ معمول پر آنے سے یہ زندگی گزرانے کا مخصوص سلسلہ بچ گیا۔ کسی چراہ گاہ میں چند ماہ کے قیام کے بعد ان کی واپسی کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ آندھی، طوفان اور اب تو جنگیں بھی ان کے زندگی کے اس چکر کو متاثر نہیں کر سکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||