خواتین ڈرائیونگ کورس پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مغربی صوبہ ھرات میں حکام نےایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے خواتین کوڈرائیونگ سیکھانے کےلیے شروع کئے گئے ایک تربیتی کورس کوبند کردیاہے- منگل کے روز مغربی افغانستان سے موصولہ رپورٹ میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ھرات میں ایک غیرملکی تنظیم نے عورتوں کو ڈرائیونگ سیکھانے کے لیے ایک تربیتی کورس کا اہتیمام کیا تھا- کورس پیر کےروز شروع کیا گیا تھا تاہم دوسرے ہی روز حکام نےاین جی او کےمنتظمین کو طلب کرکے ان کو کورس بند کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد کورس بند کردیا گیا- یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے- طالبان اسلامی ملیشاء نے اپنے دور حکومت میں خواتین کے سکولوں کو بند کرکے عورتوں کا دفاتر میں کام کرنے اور ان کا گھروں سے نکلنے پر مکمل پاپندی عائد کردی تھی- اس سلسلے میں جب پاکستان کے سرحد کے ساتھ واقع مشرقی صوبہ ننگرہار کے ٹریفک پولیس کے مدیر حاجی محمد ہلال سے رابط کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ افغان قوانین میں عورتوں کو گاڑی سیکھنے یا چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے- انہوں نے بتایا کہ جلال آباد میں ابھی تک کسی خاتون نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیےکوئی درخواست نہیں دی ہے- محمد ہلال کا کہنا ہے افغانستان میں عام طورپرخواتین کی طرف سے گاڑیاں چلانے کو معیوب سمجھا جاتاہے تاہم قانونی طورپر اس سلسلے میں کوئی پابندی نہیں ہے- واضع رہے کہ صوبہ ھرات ایران کے سرحد کے ساتھ واقع ہے- اس کے گورنر اسماعیل خان کا تعلق جمعیت اسلامی افغانستان سے ہے- ان کا شمار اہم جہادی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے روسی افواج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||