| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر کرزئی:آئین پر دستخط کردیئے
افغانستان میں عبوری حکومت کے سربراہ صدر حامد کرزئی نےملک کے نئے آئین پر دستخط کر دیئے ہیں۔ افغانستان میں ملک کے سب سے بڑے ادارے لویہ جرگہ نے تقریباً تین ہفتے قبل اس آئین کی منظوری دی تھی۔ آئین پر دستخط کیے جانے کی یہ تقریب وزارت خارجہ کے دفتر میں منعقد ہوئی جس میں عبوری افغان حکومت کے وزراء اور افغانستان میں موجود دنیا بھر کے سفارتکار بھی شریک ہوئے۔ یہ آئین ملک میں ایک مضبوط صدارت اور عورتوں اور مردوں کے یکساں حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ آس آئین کا مسودہ افغان حکومت کے ایک کمیشن نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور امریکی کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔ آس آئین کے تحت ملک میں سال رواں کے اختتام تک انتخابات کا انعقاد کیا جانا تھا لیکن ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ شاید انتخابات کا انعقاد اس سال ممکن نہ ہو سکے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ملک کا پہلا آئین ہوگا جبکہ ملک کی تاریخ میں یہ اب تک کا آٹھواں آئین ہوگا۔ افغانستان میں پہلا آئین ایک بادشاہ نے متعارف کرایا تھا اور چھٹا آئین کمیونسٹ حکومت کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ آئین میں اسلام کو ملک کا بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ لویہ جرگہ سے منظوری کے بعد ایک سو اکسٹھ شقوں پر مشتمل اس آئین پر دستخط میں تین ہفتوں کی تاخیر سے کئی حلقوں میں شک پیدا ہوا کہ شاید اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ لیکن حکام کے مطابق ایسا نہیں ہوا اور حکام کا کہنا ہے کہ حتمی منظوری سے قبل آئین کا افغانستان کی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||