| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیا قانون
افغانستان میں ایک نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت مسلح گروپوں اور قومیت، فرقے اور لسانی بنیادوں پر قائم جماعتیں ملکی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ افغانستان کے وزیرِ انصاف عبدالرحیم کریمی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کو مسلح دستوں کی مدد حاصل کو اس نئے قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کے طور پر رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔ افغانستان میں موجود نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد کئی اہم سیاسی شخصیات بشمول وزیر دفاع محمد فہیم اور علاقائی گرہوں کے لیڈر بھی ملکی سیاست سے باہر ہو جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس قانون کے تحت ان سیاسی جماعتوں کو جو اسلام کے خلاف ہیں یا جو فرقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر قائم ہیں ان کو بھی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔
افغانستان کی کئی سیاسی جماعتیں جن میں سابق کمیونسٹ جماعتیں بھی شامل ہیں اس نئے قانون کی محالفت کر رہی ہیں۔ افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی تمام سیاسی جماعتیں قومیتوں کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تاجک اور پختوں جماعتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس قانون پر کس طرح عملدرآمد ہو گا یہ بہت بڑا سوال ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||