شہری آبادی دیہی آبادی سے زیادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے مطابق سن دو ہزار آٹھ میں شہری اور دیہی آبادی کا تناسب یکسر بدل جائے گا اور ترقی پذیر ممالک میں پہلی بار شہری آبادی دیہی آبادی سے زیادہ ہوجائےگی۔ آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق آئندہ برس ترقی پذیر ممالک میں بڑے پیمانے پر شہری آبادیوں میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی ترقی کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ ادارے کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی ساز عام طور پر شہری آبادی میں اضافے کو اچھا نہيں سمجھتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ شہروں کی طرف ہونے والی نقل مکانی کو روکا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ پالیسیاں درست ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے غریبوں کے لیے شہروں میں گھر کم ہوئے ہیں اور نتیجتاً جھگی جھوپڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق 2008 میں شہروں کی آبادی تین ارب تیس لاکھ ہوجائےگی اور دو ہزار تیس میں یہ تعداد پانچ ارب سے تجاوز کر جائےگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہری آبادی میں اضافے کی وجہ صرف نقل مکانی نہیں ہے بلکہ شہروں میں پیدائش کی شرح میں اضافہ اور موت کی شرح میں کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہری آبادی بڑھنے سے پریشانیاں تو بڑھیں گی لیکن انکے حل بھی نکال لیے جائیں گے۔ ہندوستان میں یو این ایف پی اے کی نمائندہ اینا سنگھ کہتی ہیں: ’یہ بات صحیح ہے کہ جب زیادہ آبادی بڑھے گی تو سہولیات کی فراہمی میں دقتیں آئیں گی ۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شہروں کی بڑھتی آبادی ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور اس تبدیلی کے سبب خواتین کی حالت بھی بہتر ہوگی۔‘
سوال یہ ہے کہ کیا بھارت جیسا ملک اس تبدیلی کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ اس آبادی کو گھر، بجلی، پانی جسی بنیادی سہولتیں فراہم کرا سکے گا؟ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں موجود کل جھکیوں کی 37 فیصد تعداد چین اور ہندوستان میں ہے۔ ان ممالک کو حالات میں بہتری کے لیے موثر پالیسیاں بنانی ہونگی۔ یو این ایف پی کے اہلکار نسیم ٹماکی کہتے ہیں: ’ہمیں مستقبل کو خیال میں رکھ کر پالیساں بنانی ہونگی۔ ہندوستانی شہروں میں بے روز گاری کی پریشانی تو ہے ہی لیکن پبلک سہولتوں کی بھی کمی ہے۔ پینے کا پانی ، صاف صفائی ، رہنے کے لیے گھر جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پالیسیاں بنانا ضروری ہے۔‘ بعض ماہرین رپورٹ سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ دلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر امیتابھ کنڈو کا خيال ہے کہ رپورٹ کو ناقابل اعتبار اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار گيا ہے۔ انکا کہنا ہے: ’ ان اعداد و شمار کو جمع کرنے کا طریقہ صحیح نہیں ہے ۔ یہ اعدادو شمار اقوام متحدہ کی پروجیکشن رپورٹ پر مبنی ہوتے ہیں اور اقوام متحدہ کے اعدادو شمار پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ’شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سماج کا اعلی طبقہ سہولتوں پر دباؤ کی بات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’طبی جریدے کی رپورٹ غلط ہے‘11 January, 2006 | انڈیا فیملی پلاننگ کے لیے قرآن سے مدد22 December, 2006 | انڈیا چین میں بیویوں کی کمی ممکن 12 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||