BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 March, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی دیہات: جدید تر مواصلات

رابطہ گھر
رابطہ گھر ان مقامات پر قائم کیے جا سکیں گے جہاں اردگرد پانچ کلومیٹر تک کوئی عوامی ٹیلی فون یا نیٹ کیفے موجود نہ ہو
پاکستان کے دیہی اور دوردراز علاقوں میں ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ کی جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے 400 ٹیلی سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ جن کو رابطہ گھر کہا جائے گا۔

اس سکیم کے پہلے مرحلے میں چار سو رابطہ گھر قائم کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے تک کے آلات مفت فراہم کیے جائیں گے۔ جس کے لیے بے روز گار نوجوانوں اور خواتین سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

یہ رابطہ گھر ان مقامات پر قائم کیے جا سکیں گے جہاں اردگرد پانچ کلومیٹر تک کوئی عوامی ٹیلی فون یا نیٹ کیفے موجود نہ ہو اور علاقے کی آبادی چار سے دس ہزار کے درمیان ہو تاہم بلوچستان میں تحصیل کی سطح پر درخواستیں دی جا سکیں گی۔

یہ رابطہ گھر قائم کرنے کے لیے انٹر میڈیٹ پاس درخواست دہندہ کے پاس 10X12 فٹ کا ایک کمرہ ہونا ضروری ہے۔ جن امیدواروں کی درخواستیں منظور ہوں گی انہیں رابطہ گھر چلانے کے لیے تربیت دی جائے گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے رابطہ افسر خرم علی مہران نے بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے اس پروگرام کے متعلق بتایا کہ پہلے مرحلہ میں پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کی مدد سے چار سو رابطہ گھر قائم کرے گی جس میں پی ٹی سی ایل100، موبی لنک100، یو فون50، انسٹافون50، انٹل10 کی پے فون سہولت ہو گی۔ پی ٹی اے 125رابطہ گھر سپانسر کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں پی ٹی اے انٹل کے مقرر کردہ ڈیلرز کے ذریعے رابطہ گھروں میں آلات کی مفت تنصیب کی سہولت بھی دے گی۔

خرم علی کا کہنا ہے کہ ملک کے ہر حصے سے اس پروگرام کے لیے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

بیرونی دنیا سے رابطہ ممکن ہوگا
 مواصلات کی سہولیات عام ہونے سے لوگوں کو ایمرجنسی میں مدد ملے گی اس کے علاوہ لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ ممکن ہو جا ئے گا

پاکستان کے دیہی علاقوں میں مواصلات کا فروغ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور حکومت اس کی اہمیت کے پیش نظر ان علاقوں میں ٹیلی کام سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل برؤے کار لا رہی ہے۔ رابطہ گھروں کے قائم ہونے سے دیہی علاقوں میں مقامی لوگوں کو ٹیلی فون، فیکس اور انٹرنیٹ کے علاوہ ای میل پرنٹنگ اور سکینگ کی سہولت بھی میسر آ جائے گی۔

پاکستان میں سب سے پہلے انٹرنیٹ سروسز متعارف کرنے والی ایک بڑی کمپنی برین ٹیلی کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر باسط علوی رابطہ گھروں کے قیام کے سلسلے میں بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں حکومت نے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت میں ایک پرائیویٹ کمپنی نے دیہی علاقوں میں ایسی سہولیات سے مزین ایسے مراکز قائم کیے ہیں جہاں لوگوں اور بچوں کو ان سہولیات کے ساتھ معمولی معاوضہ پر انٹرنیٹ اور کمپوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور اس کے لیے لوہے سے بنے ہوئے ماؤس اور کی بورڈ فراہم کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ ہے تو اسے ایسے پراجیکٹ کی تقلید کرنی چاہیے تا کہ دیہی عوام کو بہتر طریقہ سے ٹیلی کام ٹیکنالوجی سے روشناس کروایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ وائرلیس اور براڈبینڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اس کے سامان کی درآمد میں مراعات دے۔

اس سلسلے میں ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک اور ماہر محسن حمید نے بتایا کہ رابطہ گھروں کے قیام سے وائرلیس ٹیکنالوجی عام ہوگی۔

بہترین مواقع موجود ہیں
 فکسڈ لائین ٹیلی ڈننسٹی کی رفتار کافی سست رہی ہے اور مجموعی طور پر ملک کا دیہی معیشت پر انحصار ہونے کی وجہ سے دیہی آبادی میں ٹیلی کام سہولیات کے پھیلنے کے بہترین مواقع موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ مواصلات کی سہولیات عام ہونے سے لوگوں کو ایمرجنسی میں مدد ملے گی اس کے علاوہ لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ ممکن ہو جا ئے گا۔ ان کے مطابق مستقبل میں وائرلیس کے پھیلاؤ سے کسانوں کو اپنی فصلوں کے بارے میں معلومات، موسم کا حال اور منڈیوں کے بھاؤ وغیرہ کی سہولیات بھی حاصل ہو جائیں گی اور ان کی اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں موبائل فون کی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق جہاں رابطہ تیز تر ہوگا وہاں ترقی کا عمل بھی تیز ہو جائےگا جو ملکی معیشت کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔

رابطہ گھر بنانے کے خواہش مند محسن سجاد نے بتایا کہ ان کے علاقے میں ٹیلی فون کی سہولت نہیں ہے اور آبادی کے لوگوں کے کئی عزیز و اقارب بیرون ملک ہیں۔ رابطہ گھر قائم ہونے سے ان کا رابطہ پوری دنیا سے ہو جائے گا اور لوگ اپنے عزیزواقارب سے تیزتر رابطے میں آ جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب تک وہ بے روزگار تھے اور انہیں امید ہے کہ رابطہ گھر قائم کرنے سے انہیں باعزت روزگار میسر آسکتا ہے اور انہیں پانچ ہزار ماہانہ تک آمدنی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے دیہات میں فکسڈ لائین ٹیلی ڈننسٹی کی رفتار کافی سست رہی ہے اور مجموعی طور پر ملک کا دیہی معیشت پر انحصار ہونے کی وجہ سے دیہی آبادی میں ٹیلی کام سہولیات کے پھیلنے کے بہترین مواقع موجود ہیں، جو ملک

رابطہ گھر
حکومت پاکستان آئندہ تین چار سال میں ملک میں دس ہزار سے تیرہ ہزار کے قریب ٹیلی سینٹرز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے
کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ رابطہ گھروں کے قائم ہونے سے ٹیلی کام کے شعبہ میں ترقی سے دیہات میں رہنے والی بہت بڑی آبادی کو دنیا بھر سے رابطے میں آسانی پید ہو جائے گی اور ڈیجیٹل فاصلوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت پاکستان آئندہ تین چار سال میں ملک میں دس ہزار سے تیرہ ہزار کے قریب ٹیلی سینٹرز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے وائی میکس ٹیکنالوجی کو استعال کیا جائے گا جس کے ذریعے وی او آئی پی، ویڈیو کالنگ اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولیات کو عام کیا جا سکےگا۔

اسی بارے میں
انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع
16 February, 2006 | نیٹ سائنس
محبت کی تلاش میں انٹرنیٹ دھوکے
19 November, 2005 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول
15 November, 2005 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ فون کالوں میں اضافہ
03 November, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد