انٹرنیٹ بینڈوتھ کے نرخوں میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ دور میں انسان کی روز مرّہ کی زندگی میں انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عمل دخل کچھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک مسلسل چلنے والے تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن کی موجودگی اب ناگزیر تصور کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے موثر نظام کی موجودگی،اس ملک کے ترقی یافتہ اور جدت پسند ہونے کی ایک نشانی سمجھی جاتی ہے۔ دسمبر دو ہزار چار میں پا کستان کی براڈبینڈ پالیسی پیش کی گئی تھی جس میں ملک میں رائج یا با ضابطہ طور پر قبول براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ، براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے فروغ کے لیے حکمت عملی اور پانچ سال کے اندر براڈبینڈ کے صارفین کی تعداد کو 500,000 تک پہنچانے کا ہدف بھنی واضح کیا گیا ہے۔
اس پالیسی کے باوجود عملی طور پر براڈبینڈ انٹرنیٹ کی ترسیل غیرتسلی بخش رہی ہے جس کی وجہ ملک میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کے نرخوں کی زیادتی اوراس کی ترسیل کے لیے درکار تکنیکی ڈھانچہ کے غیرموجود یا پھر غیر تسلی بخش ہونے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے گزشتہ ماہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی(پی ٹی اے) نے انٹرنیٹ بیندوتھ کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ تئیس جون کو جاری کر دہ اس فیصلے کے تحط پی ٹی اے نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کو ہدایت دی ہیں کہ وہ انٹر نیشنل پرائیویٹ لیزیڈ سرکٹ کے انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کر نے والی کمپنیوں کو ای ون( دومیگا بائٹ فی سیکنڈ) برانڈ بینڈ سروس کے نرخوں کو3950 ڈالر سے کم کر کے 3000 ڈالر اور یہی سر وس کال سینٹروں کو 3500 ڈالر کے بـجائے 2400 ڈالر میں فراہم کی جاے گی۔ اس کے علاوہ انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کر نے والی کمپنیوں کے لیے ڈی ایس تھری (45 میگا بائٹ فی سیکنڈ) سروس کے نرخوں میں 42 فیصد کمی کی گئی ہے جو اب 67150 ڈالر کی بجائے 39000 ڈالر ہوں گے اور یہ بینڈوڈتھ کال سینٹروں کو57150 ڈالر کے بجائے 31200 ڈالر پر فراہم کی جائےگی۔
اسی طرح ؤائس ڈیٹا سروس اور انٹرنیٹ پروٹوکال کی سروس کے نرخوں میں بھی واضح کمی کی گئی ہے ـ پی ٹی اے کے فیصلے کے مطابق پی ٹی سی ایل کو ان نرخوں کا اطلاق یکم جولائی سے کر نا تھا تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا جب پی ٹی سی ایل نے اس پر غیر رضامندی کا اظہار کیا اور یوں انٹرنیٹ کے ایک عام پاکستانی صارف کے ڈائل اپ کی سست رفتار اور پھیکی دنیا سے آزادی حاصل کر کے معقول نرخوں پر دستیاب معیاری اور تیز رفتار براڈبینڈ کنکشن سےمستفید ہونے کا خواب ایک بار پھر سرخ فیتے اور سرکاری اداروں کی پیچیدگیوں کی نذر ہو گیا۔ واضح رہے کہ فل حال ملک میں صرف ایک ادارہ یعنی پی ٹی سی ایل انٹر نیشنل بینڈ وڈتھ فراہم کر رہا ہے۔ یہ بینڈ وڈتھ سی می وی تھری، سی می وی فور اور فلیگ کے ذریعہ فراہم کی جا رہی ہے۔ بینڈ وڈتھ کے نرخوں میں کمي کا اعلان فل وقت صرف کاغذوں پر موجود ہے مگر اس فیصلے پر حقیقی عمل درآمد جب کبھی بھی ہومگر یہ انٹرنیٹ کے عام صارفین کے لیے کس قسم کے مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے ؟
پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے صدر اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی سائبرنیٹ کے ڈائریکٹر انصارالحق کے مطابق ' فلحال پاکستان میں ماہانہ چھ سے سات سو براڈ بینڈ کنکشن دیے جاتے ہیں جبکہ ایک ماہ میں سنگاپور میں تینتیس ہزار اور بھارت میں ایک لاکھ براڈ بینڈ کنکشن دیے جاتے ہیں ـ پاکستان میں براڈ بینڈ کی محدود ترسیل کی ایک بڑی وجہ اسکے نرخوں کی زیادتی ہے۔ انصارالحق کے خیال میں بینڈ وڈتھ کے نرخوں میں کمی کے فیصلے کے اطلاق کے تین ماہ کے اندر پاکستان میں براڈ بینڈ کے نرخ بالکل بین الاقوامی معیار کے ہوجائیں گے اور ایک ہزار سے بارہ سو روپے میں دو ہزارچھپن کلو بٹز فی سکینڈ کا براڈبینڈ کنکشن دستیاب ہوگا اور جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوگا ویسے ویسے ان نرخوں میں مزید کمی کے امکانات بھی ہوں گےـ اب صارفین آٹھ سو یا سات روپے ماہانہ کے کم رفتار ڈائل اپ انٹرنیٹ کنکشن سے آزادی چاہتے ہیں ـ جس ملک میں چوبیس سےپچیس لاکھ ڈائل اپ انٹر نیٹ کے صارفین موجود ہوں تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ براڈبینڈ استعمال نہيں کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا یہ پھر یہاں براڈبینڈ آپریٹرز کے لیے نفع بخش مارکیٹ نہیں ہو سکتی؟ جہاں تک تکنیکی ڈھانچے کا سوال ہے تو ملک میں پانچ لاکھ کاپر وائر لگائے گۓ ہیں اگر ان میں سے پچاس سے چالیس فیصد بھی کام کریں تو میرے حساب سے پاکستان میں دو لا کھ ڈی ایس ایل براڈبیند کے صارفین ہو سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں آئی ٹی اور بینائی و سماعت کی کمی 15 April, 2006 | نیٹ سائنس ہیکٹیوزم: شعور یا محض شور؟28 March, 2006 | نیٹ سائنس ہیکرز: اچھے بھی برے بھی15 March, 2006 | نیٹ سائنس ہم کہاں ہیں؟ 05 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||