ہیکٹیوزم: شعور یا محض شور؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی تنازعات میں ملوث ممالک کی ویب سائٹس اور ڈیجٹل اثاثوں کا مخالف ملک کے ہیکروں کے سائیبر حملوں کا ہدف بننا اب کوئی انہونی بات نہیں رہی۔ ہیکروں کے حملوں پر نظر رکھنے والے ایک گروپ زون ایچ کی حالیہ رپورٹ کےمطابق رشین ہیکرز نامی ہیکروں کے ایک گروپ نے جب اسرائیل کی ایک ایسی ویب سائٹ جس پرروس مخالف مواد موجود تھا مسخ کر دیا تو روسی پارلیمنٹ میں ان ہیکروں کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا گیا۔ زون ایچ کے بانی اور سربراہ رابرٹو پریٹونی کے مطابق کسی ہیکرگروپ کا ویب سائٹ مسخ کر نے پر سرکاری سطح پر کھلم کھلا سراہا جانا اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے۔ سیاسی مقصد یا تنازعہ کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے کسی ویب سائٹس کو ڈی فیس یا مسخ کرکے اس کے صفحات کو تبدیل کر کے اپنے سیاسی پیغامات یا اپنے حریف کے خلاف توہین آمیز جملوں پر مبنی صفحات شائع کرنا ہیکٹیوزم کی ایک شکل تصور کیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ ہیکنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ انیس سو چھیاسی میں ہیکر مینی فیسٹو کی اشاعت کے بعد کمپیوٹر سکیورٹی کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا۔ اس ہیکر مینی فیسٹو یعنی ہیکنگ کے منشور کو ہیکنگ کی دنیا کی نیا تصّور بھی کہا جاتا ہے اور اسے ’دی منٹر‘ کے نام سے جانے جانے والے ایک ہیکر نے اپنی گرفتاری کے بعد مرتب کیا تھا۔ اس مضمون میں ہیکر کے ذہنی جھکاؤ پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ہیکنگ کو تدریس کے روایتی طریقوں کے برخلاف سیکھنے اور اپنی قابلیت ظاہر کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسّی کی دہائی سے لے کر اب تک جس طرح ٹیکنالوجی نے ترقی کی مختلف منزلیں طے کی ہیں اسی طرح ہیکنگ کے طریقوں اور مقاصد میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ہیکنگ کا ایک روپ ہیکٹیوزم بھی ہے جس کا مفہوم ہیکنگ اور ایکٹیوزم کا ایسا ملاپ ہوتاہے جس میں کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعہ سیاسی عزائم یا نظریات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو یا واقعہ ہو جس کی مثال کسی قسم کے ڈیجیٹل روپ میں سائبرسپیس یا انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو۔ گزشتہ ماہ جب ایک طرف دیگر ممالک میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج مظاہروں، جلوسوں اور ہڑتالوں وغیرہ کی صورت میں جذبات کا اظہار کیا جا رہا تھا وہیں ہیکروں نے ڈنمارک اور یورپی ممالک کی دو ہزار سے زائد ویب سائٹوں کو مسخ کر کے اس احتجاج کو سائبر سپیس میں بھی پہنچا دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ چین اورتائیوان کے اختلافات ہوں یا فلسطین اور اسرائیل کا تنازع یا پھر عراق پر امریکہ کا حملہ، ان سب سیاسی تنازعات کا عکس ڈیجیٹل دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ ماضی میں کشمیر کے مسئلہ کے حوالہ سے پاکستان اور بھارت تعلقات کی کشیدگی اس دہائی کے شروع میں انٹرنیٹ پر اس وقت منتقل ہوگئی جب دونوں ممالک کے ہیکر گروہوں نے ایک دوسرے کی سرکاری اور دیگر نمایاں ویب سائٹس پر ڈینائال آف سروس کے حملے کیے اور سینکڑوں ویب سائٹس ہیک کر کے ان کے پہلے صفحات کو اپنے سیاسی پیغامات سے تبدیل کر دیا گیا۔ دو ہزار تین میں انڈین سنیکس نامی بھارتی ہیکرز کے ایک گروہ کے جانب سے پاکستانی آئی ایس پیز، کراچی سٹاک ایکسچینج اور سرکاری ویب سائٹس پر یاہا ای میل وائرس کا حملہ بھی اسی کڑی کا حصہ تھا ـ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کے دوران جی فورس پاکستان، سلور لارڈز، پاکستان ہیکرز کلب جیسے کچھ پاکستانی ہیکرز کے گروہوں کے نام سامنے آئے جنہوں نے بھارتی ویب سائٹس کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے بیشترگروہ ہیکنگ اور ویب سائٹ ڈیفیسمنٹ کی دنیا سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ تا ہم زون ایچ کے مطابق تئیس مارچ کے موقع پر مافیہ بائيز نامی ایک پاکستانی ہیکرگروپ نے تیرہ بھارتی ویب سائٹس کو مسخ کر کے ان کے پہلے صفحہ کو بھارت کےخلاف پیغامات والے صفحہ سے تبدیل کر دیا۔ پر کیا اس طرح کے سائبر احتجاج اور حملوں کے پس پشت صرف سیاسی محرکات کارفرما ہوتےہیں؟ قاضی احمد کا تعلق پاکستان کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم سے ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی ہیکنگ کا مقصد محض سیاسی مقاصد کی طرف توجہ حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ذرائع ابلاغ میں اپنے گروپ کو نمایاں کرانا بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر ہیکنگ کمیونٹی میں ویب سائٹ مسخ یا ڈی فیس کر نے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا تی ہے کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ تکنیکی مہارت درکار نہیں ہوتی ہے۔ کچھ اس ہی طرح کے تاثرات مجھے ایک ہیکر سے بھی ملے جس نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’شروع شروع میں میں مذاق کے طور پر دوستوں کی ویب سائٹس ہیک کر کہ ان کے صفحات تبدیل کردیتا تھا مگر اب نیٹ ورکس کی کمزوریاں ڈھونڈنے میں ایک عجیب سا لطف آتا ہے۔ ویب سائٹ ڈی فیس کرنا محض کسی سروریا سسٹم کی کمزوریاں معلوم کر کے اس میں داخل ہونا اور ویب صفحات کو تبدیل کر نا ہوتا ہے۔ اس کے لیے انٹرنیٹ پر بنے بنائے ٹولز اور سکرپٹز با آسانی مل جاتے ہیں۔‘ دوسری جانب فیض احمد شجاع جو ایک آئی ایس پی میں سکیورٹی کنسلٹنٹ ہیں اس طرح کے منظم ہیکنگ گروہوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’دیکھا گیا ہے کہ مختلف تکنیکی مہارت اور ہیکنگ کی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد انٹرنیٹ چیٹ اور آئی آر سی پر ملتے ہیں اور تکنیکی معلومات کا تبادلہ کر تے ہیں۔ اکثر اوقات اس طرح کے آن لائن میل جول آگے جا کر گروپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح کے ہیکنگ گروپس کے ممبران اکثر جغرافیائی طور پر دور دور ہوتے ہیں مگر ان کے مقاصد مشترکہ ہوتے ہیں۔‘ ناقدین کے نظر میں ویب سائٹ کو ڈی فیس کرنا حقیقی دنیا میں دیواروں پر چاگنگ کر نے کے مشابہ ہے جس سے انٹرنیٹ پر محض سیاسی شور اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نطام میں خلل برپا کیا جا سکتا ہے مگر اس سے عالمی سیاست پر کوئی معنی خیز اثرات مرتب نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم جیسے جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام میں ترقی اور جدت آتی جا رہی ہے اس ہی طرح ہیکنگ اور ہیکٹیوزم بھی ارتفا کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہیکرز: اچھے بھی برے بھی15 March, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||