آئی ٹی اور بینائی و سماعت کی کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئي ٹی ) کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اسے انسانی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی قوّتِ بصارت اور سماعت سے محروم افراد کی زندگی آسان بنانے اور انہيں معاشرے کے کارآمد ارکان بنا نے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ شازیہ حسن سکول فار بلاینڈ اینڈ ڈیف میں گزشتہ چار سال سے بصارت سے محروم طالب علموں کو کمپیوٹر کی تعلیم دے رہی ہیں اور ان کی کاؤنسلنگ بھی کر تی ہیں۔ شازیہ نے آٹھ سال کی عمر میں اپنی بینائی کھو دی تھی۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے حوالہ سے اپنی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیاں شازیہ یوں بیان کرتی ہیں کہ ’انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی بدولت اب میں بصارت رکھنے والے لوگوں کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہوں۔ پہلے مجھے ذاتی خط و کتابت کے لیے بھی کسی کی مدد لینی پڑتی تھی۔ مگر اب میں انٹرنیٹ پر جاز کی مدد سے چیٹ اور ای میل سے خود اپنے دوست و اقارب سے مدد لیے بغیر رابطہ کر سکتی ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نناوے میں رائل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلاينڈ کے ڈاکٹر احمد سید خان سے انہوں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی میں مائکروسافٹ ونڈوز، ورڈ، ایکسل اور پاور پوائنٹ کے استعمال کے علاوہ ای میل اور چیٹ بھی کرتی ہوں‘۔
شازیہ کہتی ہیں ’چونکہ میں بصارت سے محروم افراد کی نفسیاتی کاؤنسلنگ بھی کرتی ہوں اس حوالے سے اکثر انٹرنیٹ پر مواد تلاش کر کے پڑھتی بھی ہوں اور دوستوں سے یا بھر بازار سے کتابیں لے کر انہیں اوپن بک سافٹ ویر سے سکین کرتی ہوں جو تحریر کردہ مواد کو ٹیکسٹ میں تبدیل کر کے اسے کمپیوٹر پر پڑھ کر سناتا ہے۔ اس طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی میری زندگی میں مثبت تبدیلی کا سبب بنی ہے‘۔ شازیہ انٹرنیٹ کے ذریعے وژول بیسک لینگویج میں کمپیوٹر پروگرامینگ بھی سیکھ رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نابینا افراد کے لیے جاز جیسا اردو کا بھی سکرین ریڈنگ سافٹ ویر تیار کیا جائے۔ جہاں بصارت سے محروم افراد کے لیے آئی ٹی کی دنیا میں کمپیوٹر کے تصویری اور تحریری پہلؤوں کے صوتی متبادل پیش کیے جا تے ہیں وہیں اس کے برعکس سماعت سے محروم افراد کے لیے تصویری اور تحریری عنوان اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ محمد اکرم پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈیف میں رابط کار ہیں ۔ اکرم نے نو عمری میں علالت کے بعد اپنی قوت سماعت کھو دی۔ وہ آئی ٹی کے حوالے سے سماعت سے محروم افراد کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں میں ای میل، چیٹ اور موبائل کے ذریعے ایس ایم ایس کو سب سے اہم سمجھتے ہیں جن کی وجہ سے سماعت سے محروم لوگوں کے لیے مواصلات میں کافی آسانی ہوگئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بنیادی طور پر بصری ذریعہ ہے اس لیے نابینا افراد کی نسبت سماعت اور گویائی سے محروم لوگوں کو ان کے استعمال کے لیے مخصوص سافٹ ویر کی ضرورت نہیں ہو تی۔ البتہ انٹرنیٹ پر ملٹی میڈیا کی مقبولیت کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد ویڈیو اور آڈیو کلپس کے ذریعے پیش کی جانے والی معلومات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کا ایک موثر نعم البدل ویڈیو اور آڈیو کلپس کی تحریری تشریح کی صورت میں فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سماعت سے محروم افراد کے لیے کمپیوٹر پر صوتی اشاروں کی جگہ تصویری اشارے فراہم بھی کیے جانے چاہیں‘۔ اکرم کے خیال میں سماعت سے محروم افراد کے لیے انٹرنیٹ اور آئی ٹی سے مستفید ہو نے کے لیے پڑھے لکھے ہونا نہایت ضروری ہے ـ ورلڈ وائڈ ویب کونسورشیم کے تحت لوگوں کو ویب تک رسائی دینے کے اقدام واضح کیے گئے جن پر عمل کر تے ہوئے ایسی ویب سائٹیں تشکیل دی جا سکیں گی جن تک رسائی میں جسمانی طور پر معزور افراد کو دشواری نہ ہو۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سےڈیجیٹل اور حقیقی دنیا میں صحت مند اور قوّتِ گویائی اور سماعت سے محروم افراد کی اہلیت میں فرق دور کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں نئے جین کی دریافت08 November, 2004 | نیٹ سائنس جسم میں چِپ لگ سکتی ہے06 July, 2004 | نیٹ سائنس جلدی پیدائش: معذوری کا خطرہ19 September, 2004 | نیٹ سائنس دماغ کی چوٹ کے لیے ادویات15 January, 2005 | نیٹ سائنس جو سوچیے سو ہو جائے15 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||