BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 December, 2005, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جو سوچیے سو ہو جائے

انسانی دماغ
ہر انسان کے دماغ میں سوچ کی لہریں مختلف ہیں
کسی بھی پڑھے لکھے اور برسرِ روزگار شخص کی جیب میں ہر وقت کئی طرح کے کارڈ موجود ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اسکا قومی شناختی کارڈ ہے جِس پر اسکا نمبر درج ہے اور آج کل ہر طرح کے کاروبار میں شناختی کارڈ کا نمبر استعمال ہوتا ہے۔ پھر اسکے کے دفتر کا شناختی کارڈ الگ ہوتا ہے اور بعض اداروں میں داخلے کے دروازے پر یہ کارڈ ایک مشین سے گزر کر ملازم کے اندر جانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

پھر آپکے بنک کا کارڈ بھی جیب میں رہنا ضروری ہے کیونکہ اس پر آپکا اکاؤنٹ نمبر یا وہ خفیہ کوڈ درج ہے جِسے بنک کے کمپیوٹر میں ڈال کر آپ پیسے نکلوا سکتے ہیں۔

خود اپنا ذاتی کمپیوٹر چالو کرنے کے لئے اور اپنی ای میل پڑھنے کے لئے بھی آپکو ایک کوڈ داخل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔

آپکے لئے یقیناً یہ خبر باعثِ مسرّت ہو گی کہ کینیڈا کے تکنیکی ماہر ین نے اب ’پاس ورڈ‘ کی جگہ ’پاس تھاٹ‘ کا نظام متعارف کرنے کی ٹھانی ہے۔ یعنی آپکو کمپیوٹر میں خفیہ نمبر فِیڈ کرنے کی بجائے صرف اپنے ذہن میں وہ نمبر سوچنا ہوگا اور کمپیوٹر آپکی سوچ کو پڑھ کر آپکی ہدایت پر عمل شروع کر دے گا۔
مگر یہ کیسے ممکن ہوا؟

اِس نظام کے پیچھے یہ اُصول کار فرما ہے کہ جس طرح ہر انسان کی اُنگلیوں کے نشانا ت مخصوص اور انفرادی ہوتے ہیں یا ہر انسان کی آنکھ کی ساخت کسی دوسرے انسان سے مماثل نہیں ہوتی __ اور یہ دونوں اشیاء آج کل ذاتی شناخت کے لئے استعمال ہوتی ہیں __ اُسی طرح سوچ کی لہریں بھی ہر انسان کے دماغ میں بالکل یکساں طریقے سے نہیں آتیں بلکہ ہر فرد میں سوچ کی لہر کا رنگ ڈھنگ انفرادی ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر بہت سے لوگ ایک ہی موضوع پر سوچ رہے ہوں تو بھی ہر دماغ میں سوچ کی لہر ذرا مختلف طریقے سے کارفرما ہوگی۔ لہروں کی کارکردگی کا یہی اختلاف اِس نئی ایجاد کی بُنیاد ہے۔

اِس انقلابی طریق کار کی خالق اٹاوا میں کارٹلن یونیورسٹی کی ایک طالبہ جُولی تھورپ ہیں جو کہ اِس نظام کو ’بایو میٹرک سیکورٹی سسٹم‘ کا نام دیتی ہیں۔

دراصل وہ مفلوج افراد کے لئے ایک دماغی کمپیوٹر کی تیاری میں مصروف تھیں جسکے ذریعے معذور لوگ اپنے گردو پیش سے باخبر رہ سکیں اور آس پاس کے لوگوں سے رابطہ برقرار رکھ سکیں۔

تحقیق کے دوران جُولی اور اُن کے ساتھی محققوں نے محسوس کیا کہ جب وہ ایک ہی طرح کے انسانی خیالات کو ایک عمومی پیغام میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ناکامی ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف معذور افراد کے ذہن میں جب بھوک یا پیاس کا تصوّر پیدا ہوتا ہے اور اسی تصوّر کو مشینی زبان میں ڈھالا جاتا ہے تو ہر فرد کے خیالات کا سِگنل دوسرے افراد کے سِگنل سے ذرا سا مختلف ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ سب لوگ پانی یا روٹی کے بارے ہی میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔

اسی مقام ہر جولی تھورپ کو خیال آیا کہ انسانی سوچ کے اِس انفرادی سِگنل کو سکیورٹی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر فرد کی سوچ کا سِگنل منفرد ہو گا چنانچہ اسی انفرادیت کی بُنیاد پر وہ اپنا خفیہ کوڈ بھی سوچ سکتا ہے اور اپنے بینک اکاؤنٹ کا خفیہ نمبر بھی۔

جولی تھورپ کا خیال ہے کہ جب یہ نظام کمرشل بُنیادوں پر شروع ہو جائے گا تو اُن کی اوّلین گاہک وہ حکومتیں ہوں گی جو اپنے شہریوں کو ’بایو میٹرک پاسپورٹ ‘ جاری کرنا چاہتی ہیں۔

66انفیکشن سے بچیں
ماں کے انفیکشن سے بچے کو کینسر کا خدشہ
66خطرات اور دماغ
دماغ ایک غیر معمولی حیاتیاتی کمپیوٹر
66سُر کریں بیمار
ریاض موسیقاروں کے اعصاب کے لئے مفید نہیں
66جیٹ لیگ پرتحقیق
جیٹ لیگ دماغ میں تضاد کے باعث پیدا ہوتا ہے
اسی بارے میں
کیا عقیدہ تکالیف کو کم کرتا ہے
13 January, 2005 | نیٹ سائنس
آنکھ جھپکنے سے دماغ بند
26 July, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد