’دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا محکم ثبوت مل گیا ہے کہ انسانی ذہن کا ارتقاء رکا نہیں بکہ یہ بتدریج ترقی کر رہا ہے۔ سائنس دانوں نے اس مقصد کے لیے آج کے انسان کے دماغ کا موازنہ سینتیس ہزار قبل بسنے والے انسانوں کے دماغ سے کیا جس سے انہیں پتہ چلا کہ دماغ کے اندر دو جینز میں تبدیلی آئی ہے۔ انسانی دماغ میں جینز کی ایک تبدیلی آج سے پانچ ہزار آٹھ سو برس پہلے سامنے آئی تھی لیکن آج کے انسان کے دماغ میں یہ تبدیلی صرف تیس فیصد تک ہی پائی جاتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ارتقائی مراحل کی بات کی جائے تو یہ عرصہ بہت مختصر ہے۔ دماغوں میں جینز کی تبدیلی انسان کے ثقافتی رویے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ آئی۔ خیال ہے کہ آج سے پچاس ہزار سال قبل انسان کا سر اس کے جسم سے غیر معمولی طور پر چھوٹا تھا اور اسی زمانے میں اس کے دماغ میں فن اور موسیقی جیسے اوصاف اور مذہبی باتوں یا اوزار بنانے کے طریقوں سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ یہ خیال جو آج سے تقریباً پچاس ہزار سال پہلے انسانی ذہن میں پیدا ہوا ہوگا، آج ستر فیصد انسانوں کے دماغ میں ہے۔ ذہنِ انسانی میں دوسری بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب اول اول انسان نے زبان لکھنی شروع کی اور جب زراعت پھیلینے کے ساتھ ساتھ اس نے شہروں میں رہنا شروع کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||